
اسلام آباد (ویب ڈیسک) وفاقی کابینہ نے ملک میں کورونا کیسز کی تعداد میں اضافے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے
ہوئے کہا کہ پاکستان نے بہترین حکمت عملی سے کورنا کی وباءکا مقابلہ کیا جس کا بین الاقوامی سطح پر اعتراف کیا گیا ہے۔ تاہم قوم کو وباءکی دوسری لہر کے پیش نظر انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے۔کابینہ کو بتایا گیا کہ رواں ماہ سامنے آنے والے کیسز کی تعداد میں جولائی اگست کے مقابلے میں اضافہ سامنے آیا ہے۔ کورونا مثبت کی شرح (positivity) دو فیصد تک پہنچ چکی ہے جبکہ اموات کی تعداد جو کہ جولائی اور اگست میں ایک ہندسے میں تھیں وہ اب دو ہندسوں میں ہو گئی ہیں۔
کابینہ نے اس امر پر زور دیا کہ حفاظتی اقدامات خصوصاً ماسک کا استعمال اور دیگر ایس او پیز پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ کابینہ کو ملک میں گندم کے موجود ذخائر اور مستقبل کی ضروریات کے پیش نظر درآمد کی جانے والی گندم کی صورتحال کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کو مختلف صوبوں کی جانب سے سرکاری گندم کی ریلیز کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے سترہ سے بیس ہزار ٹن یومیہ گندم ریلیز کی جا رہی ہے جسے پچیس ہزار ٹن تک بڑھایا جا رہا ہے۔ حکومت سندھ کی جانب سے بیس سے اکتیس اکتوبر تک پچاسی ہزار ٹن گندم ریلیز کی جا رہی ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا ہے کہ صوبہ پنجاب کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ یوٹیلیٹی اسٹورز پر طلب کے مطابق گندم کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔
اسی طرح صوبہ سندھ کی جانب سے بھی یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ فلور ملوں کو ان کی ضروریات کے مطابق گندم کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ کابینہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک میں نہ صرف گندم کی وافر دستیابی کو یقینی بنایا جائے گا بلکہ قیمتوں کو بھی قابو میں رکھا جائے گا اور اس ضمن میں تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔
اجلاس کو ملک میں موجود چینی کے ذخائر، درآمد کی صورتحال اور قیمت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ چینی سے متعلق واجد ضیاءکی رپورٹ کے بعد فزیکل ویریفیکیشن کا عمل شروع کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اوسطاً ماہانہ دو سے ڈھائی لاکھ ٹن چینی کی کھپت میں اچانک کئی گنا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ چینی کی ضروریات کے پیش نظر فوری طور پر درآمد کا فیصلہ کیا گیا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ آئندہ بیس دنوں میں کرشنگ سیزن کا آغاز ہو جائے گا۔ کرشنگ سیزن میں تاخیر پر پچاس لاکھ یومیہ جرمانہ کیا جائے گا۔














