
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کو اڈیالہ جیل سے کسی
دوسری قید گاہ میں منتقل کرنے کے امکان پر سنجیدگی سے غور شروع کر دیا ہے۔ نجی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات ایسے موڑ پر پہنچ چکے ہیں جہاں سے واپسی کے راستے محدود دکھائی دے رہے ہیں، اور حکومت کے نزدیک پی ٹی آئی کی موجودہ حکمت عملی ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی منظم کوشش نظر آ رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق احتجاج کے نام پر تصادم کی فضا ہموار کی جا رہی ہے جس کے باعث حکومتی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی نے بھی اس معاملے پر کھل کر بات کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی پوری کوشش ہے کہ عمران خان کو اڈیالہ جیل سے دوسری جگہ منتقل کیا جائے اور حکومت اب اس مطالبے یا خدشے کو محض سیاسی بیان نہیں سمجھ رہی بلکہ اس پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔
اڈیالہ جیل کے باہر جاری احتجاج پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے اختیار ولی نے کہا کہ ان دھرنوں نے عوام کی روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کر رکھا ہے۔ ان کے مطابق ہر ہفتے پنڈی اور اڈیالہ روڈ کے مکینوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اسکول جانے والے بچوں سے لے کر دفاتر اور گھروں کو واپس لوٹنے والوں تک، سب کی معمولاتِ زندگی مفلوج ہو چکی ہیں،انہوں نے واضح کیا کہ ریاست بدامنی اور دباؤ کی سیاست کے آگے جھکنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔
اس دوران اختیار ولی نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی پر سنگین الزامات بھی عائد کیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیراعلیٰ پر منشیات کے اسمگلروں سے مبینہ روابط کے سائے موجود ہیں اور حکومتی کارکردگی نہ صرف صفر ہے بلکہ تنزلی کا شکار نظر آتی ہے،انہوں نے مزید الزام لگایا کہ وزیراعلیٰ کے بعض قریبی رشتے دار بھی منشیات کے کاروبار میں ملوث ہیں اور صوبائی قیادت اس نیٹ ورک کی مبینہ سرپرستی کرتی ہے، جس کے باعث صوبے میں حکومتی امور مزید متاثر ہو رہے ہیں۔
حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال اور احتجاجی سرگرمیوں کے اثرات کو سامنے رکھتے ہوئے عمران خان کی منتقلی سمیت تمام آپشنز پر سنجیدگی سے غور جاری ہے۔














