
کراچی( ویب ڈیسک)گلشن اقبال کے رہائشی فلیٹ سے خواتین کی لاشیں ملنے کے لرزہ خیز واقعے کی تفتیش میں اہم پیش رفت
سامنے آئی ہے۔ پولیس نے دوبارہ جائے وقوعہ کا معائنہ کیا، جہاں سے زہریلی اور چوہے مار ادویات محلول کی شکل میں برآمد ہوئی ہیں۔
تفتیش کے مطابق فلیٹ سے متوفیہ ثمینہ کے مبینہ طور پر لکھے گئے خطوط بھی ملے ہیں جن میں موت کو گلے لگانے کی وجہ بھاری قرض کو قرار دیا گیا ہے۔ تاہم پولیس اس بات کی تصدیق کر رہی ہے کہ آیا یہ خطوط واقعی ثمینہ نے ہی لکھے تھے یا نہیں۔
ذرائع کے مطابق متاثرہ خاندان پر ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد کا قرض تھا جبکہ 75 لاکھ روپے کے قرض سے متعلق ایک باضابطہ شکایت بھی پولیس کو موصول ہو چکی ہے۔ تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ملزمان کے زیرِ استعمال فلیٹ اور ایک گاڑی کرائے پر لی گئی تھی، جبکہ دوسری گاڑی بینک لیز پر تھی۔
نیم بے ہوشی کی حالت میں ملنے والا یاسین، جو پراپرٹی ایجنٹ تھا، پولیس کو ابتدائی بیان میں بتاتا ہے کہ منصوبے کے مطابق وہ اور اس کے والد بھی زہر ملا مشروب پینے والے تھے، مگر اس کی حالت بگڑتی دیکھ کر والد زہر پینے کی ہمت نہ کر سکے۔ واقعے کے بعد والد کے پاس سے بھی ایک خط ملا ہے جس کی جانچ جاری ہے۔
تفتیشی حکام کے مطابق ماہا کو سب سے پہلے زہر دیا گیا اور اس کی لاش کمرے میں بند کر دی گئی تھی۔ ابتدائی شواہد کے مطابق یہ انتہائی قدم مبینہ طور پر بھاری قرض داروں سے بچنے کے لیے اٹھایا گیا،پولیس کا کہنا ہے کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ متاثرہ خاندان نے مشترکہ طور پر موت کو گلے لگایا، تاہم خواتین کی حتمی وجہ موت کے تعین کے لیے پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔





































