ایک لاکھ 35ہزار اساتذہ ریاضی، سائنس نہیں پڑھا سکتے،وزیرتعلیم سندھ

کراچی : وزیرتعلیم سندھ سردارشاہ نے صوبے کےتعلیمی نظام میں موجود نقائص کااعتراف کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے

کہ اسکو لوں کے ایک لاکھ 50 ہزارمیں سےایک لاکھ 35 ہزاراساتذہ سائنس اور ریاضی نہیں پڑھاسکتے ہیں۔

کراچی میں محکمہ تعلیم کے تحت منعقدہ ایک ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر تعلیم سردار شاہ کا کہنا تھا کہ ‘اس وقت ہمارے نظام میں 42 ہزار اسکول ہیں جو خطرناک صورت حال میں ہیں جس میں سے 39 ہزار پرائمری اور صرف 3 ہزار سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری اسکول ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمارا دعویٰ ہے کہ 42 لاکھ بچے ان اسکولوں میں داخل ہیں لیکن میں اس کو بھی بڑھا چڑھا کرپیش کیے گئے اعداد وشمارسمجھتا ہوں، تعلیمی اداروں کا دعویٰ ہےکہ 6 اعشاریہ 5 ملین بچے اسکولوں سے باہر ہیں اس کو بھی میں صحیح نہیں مانتا تاہم اس حوالے سے اعداد وشمار جمع کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے تاکہ اصل صورت حال سامنے آئے’۔

صوبائی وزیرتعلیم نے کہا کہ ‘ہمارے پاس اس وقت ایک لاکھ 50 ہزار اساتذہ موجود ہیں جن میں سے 9 فیصد سائنس اساتذہ ہیں اور ان کے ساتھ ہم یہ دعویٰ کریں کہ 42 لاکھ بچوں کو تعلیم دے کر انہیں روشن مستقبل دے رہے ہیں تو یہ جھوٹ ہے اور ہمیں اس کو سمجھنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خوش فہمی نہیں کہ صوبے کے 42 ہزار اسکولوں کی حالت اچھی ہے اور بہترین عمارتیں ہیں، مجھے علم ہے کہ صوبے کے کئی اسکولوں کی عمارتیں خستہ حال ہیں لیکن انہیں بہتر کرنے میں وقت لگے گا اور نیک نیتی کے ساتھ نظام کو بہتر کرنا ہے اور چیلنجز ہمارے سامنے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یقین دلا سکتے ہیں کہ ایمان داری اور دیانت داری کے ساتھ محکمہ تعلیم میں بہتری کے لیے کام کرتے رہیں گے۔