
مظفرآباد (ویب ڈیسک ،خبر ایجنسی ) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ میرا ایمان ہے کہ نریندر مودی نے کشمیر کی
خصوصی حیثیت ختم کرنے کا 5 اگست کو جو اقدام اٹھایا ہے اسی سے کشمیر کی آزادی کا راستہ نکلے گا،تحریک آزادی کشمیر سیاسی، سفارتی اور ذرائع ابلاغ کی سطح پر کامیابی سے ہمکنار ہوئی ہے، کشمیری رہنماﺅں کے ساتھ مل کر ایک کمیٹی تشکیل دیں گے جس کے بعد اگلا مرحلہ شروع کریں گے، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی 11دن میں پاکستان کو فتح کرنے اور بھارتی آرمی چیف کی آزاد کشمیر فتح کرنے کی باتیں کوئی ذی شعور آدمی نہیں کر سکتا جب دونوں ممالک جوہری طاقتیں ہوں، یہ گھبرائے ہوئے لوگوں کی باتیں ہیں، مودی حکومت 5 اگست کے اقدام کے بعد بری طرح پھنس چکی ہے، مودی اگر اپنے حالیہ اقدام سے پیچھے ہٹتا ہے تو اسے انتہا پسند ہندوﺅں سے خطرہ ہے جبکہ وہ مزید ایسے اقدام اٹھاتا ہے تو وہ عالمی سطح پر بے نقاب ہو گا، آر ایس ایس کے نظریے اور ہندوتوا کے حوالے سے دنیا نے ہماری بات کو اہمیت دی ہے۔
آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کے دوران کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر کے اراکین پارلیمنٹ اپنے اندر مایوسی نہ لے کر آئیں، مایوسی گناہ ہے، قوموں کی زندگی میں مشکل وقت ایمان کی آزمائش کےلئے آتے ہیں اور قرآن بھی ہمیں یہی بتاتا ہے تاہم اس مشکل وقت میں صبر اللہ کو سب سے زیادہ پسند ہے اور میں اس حوالے سے کسی شک اور ابہام کا شکار نہیں ، مجھے یقین ہے کہ ہم اس مشکل وقت سے نکلیں گے اور پاکستان دنیا کا عظیم ملک بنے گا۔
انہوں نے کہا کہ مودی نے چھ ماہ قبل مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کا جو اقدام اٹھایا میرا ایمان ہے کہ اس کی وجہ سے کشمیر آزاد ہو گا، اگر وہ یہ اقدام نہ اٹھاتا تو ہم دنیا کو کچھ نہیں بتا سکتے تھے، مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم 5 اگست سے پہلے بھی جاری تھا، معصوم لوگوں کے خلاف پیلٹ گنز کا استعمال کیا جاتا تھا، یہاں ہونے والی شہادتوں پر دنیا کو کوئی فکر نہیں تھی اور کہیں سے کوئی اس حوالے سے آواز نہیں اٹھتی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت اب ایک سنگین غلطی کر چکا ہے اور اب اس سے پیچھے نہیںہٹ سکتا، مودی نے یہ غلطی بڑے مینڈیٹ کی وجہ سے کی ہے، اس کی پوری انتخابی مہم پاکستان کو سبق سکھانے، ہندو نیشنل ازم اور ہندوتوا نظریے کے فروغ پر محیط تھی، وہ آر ایس ایس کے نظریے کو لے کر آگے بڑھا ہے، آر ایس ایس کا یہ فلسفہ اس کے بانی کے نازی ازم سے متاثر ہو کر رکھا گیا، اس کے بانی نے اپنی کتاب میں یہودیوں کے قتل عام کی تحسین کی تھی۔ وزیراعظم نے کہا کہ 5 اگست کے بعد ہمیں دنیا کو اس نظریے کے بارے میں سمجھانے کا موقع ملا، پاکستان کی قومی اسمبلی میں تقریر کے دوران میں نے بتایا کہ آر ایس ایس کا فلسفہ کیا ہے پھر میں قانون ساز اسمبلی میں آیا اور آپ سے وعدہ کیا کہ میں پاکستان کا سفیر بنوں گا اور اس حوالے سے میں نے اپنی پوری کوشش کی، دنیا کے جس فورم پر بھی میں گیا وہاں کشمیر کی موجودہ صورتحال اور آر ایس ایس کا فلسفہ دنیا کے سامنے رکھا، مختلف ممالک کے سربراہان کو اس حوالے سے آگاہ کیا،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تین بار مسئلہ کشمیر سمجھایا۔
وزیراعظم نے کہا کہ وہ مغربی دنیا کو بخوبی جانتے ہیں ان کے تجارتی مفادات جڑے ہیں، انہیں ایک بار سمجھانے سے سمجھ نہیں آئے گی اس کے لیے انہیں بار بار آگاہ کرنا پڑے گا۔۔ عمران خان نے کہا کہ ہم عالمی سطح پر وفود بھجوا کر چن چن کر دنیا کو آگاہ کریں گے، مودی جہاں بھارت کو لے کر گیا ہے وہ اب پیچھے نہیں ہٹ سکتا ، انتہا پسندی کا جن بھارت میں بوتل سے نکل چکا ہے اگر وہ آگے جائے گا تو اسے مزاحمت ملے گی اور اگر اس سے پیچھے ہٹے گا تو انتہا پسند سوچ اسے ہٹنے نہیں دے گی۔ و پر اجاگر کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں، یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔ انہوں نے کشمیری رہنماﺅں سے کہا کہ وہ آپس میں مل بیٹھ کر ٹھوس تجاویز کے ساتھ ہمارے پاس آئیں، ہم ایک کمیٹی بنائیں گے جو آپ کے ساتھ مشاورت کے بعد مستقبل میں کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے آئندہ مراحل کا تعین کرے گی۔














