بھارت میں 60 کروڑ اقلیتوں کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی جارہی ہے ،وزیر اعظم

اسلام آباد(ویب ڈیسک ،خبر ایجنسی)وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارتی جارحیت کے خلاف پاک فوج کے مضبوط عزم کو دیکھ کر

مجھے اعتماد ملا۔جارحیت کا جس طرح جواب دیا دنیا یاد رکھے گی، بھارت جس خطرناک راستے پر گامزن ہے اس کا منطقی انجام خون ریزی ہی ہوسکتاہے، بھارت میں 50،60 کروڑ اقلیتوں کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی جارہی ہے، مقبوضہ کشمیر 80لاکھ لوگوں کیلئے کھلی جیل بنا دیا گیاہے، اس خطرناک راستے کی وجہ سے بھارت بڑی مشکل میں پھنس گیا ہے جس سے واپسی بھی ناممکن نظر آرہی ہے، عالمی برادری کو اس صورتحال کے حوالے سے خطے کی مدد کرنی چاہیے، داخلی طورپر مسائل کو جلد حل کرلیں گے،مشکل وقت سے نکل آئے ہیں۔
انہوں نے 26فروری 2019ءکی بھارتی جارحیت کو ایک سال مکمل ہونے کے حوالے سے وزیراعظم آفس کے آڈیٹوریم میں بھارتی جارحیت اور پاکستان کا ذمہ دارانہ ردعمل کے موضوع پرتقریب منعقد ہوئی ۔ تقریب میں وفاقی وزرا، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ائیر چیف مجاہد انور خان سمیت اعلی سول و عسکری حکام بھی تقریب میں شریک ہوئے۔
وزیر اعظم عمران خان نے کہاکہ اللہ کے کرم کی وجہ سے اس مشکل صورتحال سے نکلے، مجھے پوری قوم پر ہے جس طرح اس نے بحران کا سامنا کیا اور حالات کوبگڑنے نہیں دیا، پاکستان اور اس کے عوام نے ذمہ دارانہ طرز عمل کا مظاہرہ کیا، میں اور پاکستان ہم عمر ہیں ، میں نے ماضی کی بھارتی جارحیت دیکھی ہے ۔ 1965 کی جنگ بھی دیکھی ، 1971کا سانحہ بھی یاد ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ قوم نے ہر چیلنج اور بحران کا بھرپور انداز میں سامنا کیا۔ مشکل وقت میں اپنے عزم کو مضبوط رکھا۔پلوامہ واقعہ کے بعد پاکستان کو اندازہ تھا کہ بھارت کچھ نہ کچھ کرے گا، ہم نے تیاری کرلی تھی۔ اور جب بھارت نے 26 فروری کو جارحیت کی تو پاکستان نے ذمہ داری کا ثبوت دیا ،تحمل کا مظاہرہ کیا جبکہ بھارتی میڈیا نے جنگ کا ماحول پیداکردیا تھا۔ پاکستان نے قطعاً خوف و ہراس کی فضا قائم نہیں ہونے دی کیونکہ ہم نے تیاری کی ہوئی تھی کہ جس طرح کا اقدام کیا جائے گا اس جواب اسی طرح دیں گے اور افراتفری میں جواب دینے کی بجائے تحمل کا مظاہرہ کیا۔
وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ 'بھارتی جارحیت کے بعد متعدد مرتبہ منہ توڑ جواب دے سکتے تھے لیکن ہم نے تحمل کا مظاہرہ کیا، بھارتی پائلٹ نئی دہلی کے حوالے کیا، بھارتی آبدوز کو لاک ڈاو¿ن کرلیا لیکن کوئی جارحانہ اقدام نہیں اٹھایا۔
انہوں نے کہا کہ 26فروری کو جب پاک فضائیہ کے سربراہ نے مجھے رات 3 بجے انتہائی اعتماد کے ساتھ بتایا کہ بھارت نے بمباری کی ہے تو ہم نے صبر کا مظاہرہ کیا کیونکہ ہمیں معلوم نہیں تھا کہ کتنا جانی نقصان ہوا ہے اور جب صبح جانی نقصان نہ ہونے کے بارے میں پتہ چلا تو اس کے مطابق ہم نے ردعمل دیا۔ ہمارا ردعمل ذمہ دارانہ تھا۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی جارحیت کیخلاف اس وقت ساری سیاسی جماعتیں اختلافات کے باوجود پارلیمنٹ میں ایک صفحے پر متحد ہوگئیں۔