شہید نوجوانوں کے جنازے میں شرکت کرنے والے متعددکشمیری گرفتار

سرینگر (ویب ڈیسک) مقبوضہ کشمیر میں جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے غیر قانونی طورپر نظربند چیئرمین محمد یاسین ملک کے

اہلخانہ اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بھارتی قابض انتظامیہ غیر قانونی طورپرنظربند رہنماء کو عدالتی قتل کا نشانہ بناسکتی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی حکومت نے بھارتی حکومت نے لبریشن فرنٹ کے چیئرمین کو دہائیوں پرانے جھوٹے مقدمات میں ملوث کر کے نئی دلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں نظربند کر رکھا ہے۔محمد یاسین ملک کے ایک قریبی رشتہ دار نے سرینگر میں ایک انٹرویو میں کہاہے کہ لبریشن فرنٹ کے چیئرمین کے خلاف جھوٹے مقدمات دوبارہ کھولنے سے بھارتی قابض انتظامیہ کے خطرناک مذموم عزائم بے نقاب ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی حکومت کایہ اقدام عدالتی نہیں بلکہ سیاسی ہے۔
یاسین ملک کے وکیل ایڈووکیٹ طفیل راجہ نے کہاہے کہ ان کے موکل کے خلاف جھوٹے مقدمے دائر کئے گئے ہیں تاہم وہ کسی قسم کے دباؤ میں ہرگز نہیں آئیں گے۔ انسانی حقوق کے معروف علمبردارخرم پرویز نے کہاہے کہ یاسین ملک کے خلاف دائر مقدمے کی سماعت سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔