
(واشنگٹن (ویب ڈیسک،فوٹوفائل ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ میڈیا رپورٹس سے ایسا تاثر ملتا ہے جیسے امریکا جنگ ہار رہا ہو، تاہم حقیقت اس کے برعکس ہے اور
ایران بظاہر امریکا کے ساتھ مذاکرات اور ممکنہ معاہدے میں دلچسپی رکھتا ہے۔
واشنگٹن میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکا اورایران کے درمیان پسِ پردہ رابطے جاری ہیں اور ایران کی جانب سے کسی ڈیل کے لیے بے چینی بھی دیکھی جا رہی ہے، لیکن ایرانی قیادت کھل کر اس کا اظہار کرنے سے گریزاں ہے۔ ان کے مطابق ایرانی حکام کو خدشہ ہے کہ اگر وہ معاہدے کی حمایت کریں گے تو انہیں اندرونِ ملک شدید عوامی اور سیاسی ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران نہ صرف اپنی عوام بلکہ امریکا کے ممکنہ ردعمل سے بھی محتاط ہے، اسی لیے وہ واضح مؤقف اختیار نہیں کر پا رہا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ صورتحال ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں بڑی پیش رفت ممکن ہے، تاہم اس کے لیے ایران کو کھل کر سامنے آنا ہوگا۔
انہوں نے اپنی خارجہ پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہ انہوں نے اپنے دورِ حکومت میں دنیا کے مختلف خطوں میں آٹھ جنگوں کو رکوانے میں کردار ادا کیا اور اب بھی ایک اور تنازع کے حل کی جانب پیش رفت جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کی حکمت عملی ہمیشہ طاقت اور سفارتکاری کے امتزاج پر مبنی رہی ہے۔
امریکی صدر نے مزید دعویٰ کیا کہ حالیہ کشیدگی کے دوران ایران کی بحری اور فضائی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے تاہم بعض میڈیا ادارے صورتحال کو مسخ کر کے پیش کر رہے ہیں اور ایسا تاثر دے رہے ہیں ،جیسے امریکا کو نقصان اٹھانا پڑ رہا ہو، حالانکہ امریکا اپنی حکمت عملی کے مطابق مؤثر انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔














