
دوحہ( ویب ڈیسک ،تصویر اسکرین شارٹ )قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر ماجد بن محمد الانصاری نے کہا ہے کہ امریکا نے اپنے اندازوں کی بنیاد پر جنگ میں جانے کا
فیصلہ کیا، تاہم قطر خطے میں کشیدگی کم کرنے اور اپنے ملک پر ممکنہ حملے رکوانے کے لیے امریکا کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔
منگل کو دوحہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک کو موجودہ صورتحال کے پیش نظر اپنے سیکیورٹی نظام کا ازسرِ نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دفاعی معاہدے مجموعی طور پر مؤثر ثابت ہوئے ہیں، تاہم بدلتے حالات میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔
ترجمان کے مطابق سرکاری دفاتر میں دوبارہ کام شروع کرنے کا فیصلہ جامع سیکیورٹی جائزوں کے بعد کیا گیا، اور اب معمولاتِ زندگی کی بحالی ناگزیر ہے،انہوں نے واضح کیا کہ قطر کسی بھی اہم تنصیبات پر ممکنہ حملے کی صورت میں مؤثر جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ گزشتہ چند دنوں میں ایسا کوئی بڑا حملہ ریکارڈ نہیں کیا گیا جس پر باقاعدہ الرٹ جاری کرنا ضروری ہو۔
ڈاکٹر الانصاری نے کہا کہ حملوں سے متعلق الرٹ جاری نہ ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ قطر کو خطرات لاحق نہیں، ایران سے جاری کشیدگی کے باعث پورے خلیجی خطے کا سیکیورٹی نظام متاثر ہوا ہے،انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ خلیجی ممالک مشترکہ طور پر اپنے دفاعی اور سیکیورٹی ڈھانچے کا ازسرِ نو جائزہ لیں تاکہ مستقبل کے خطرات کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔




































