
صبا احمد
تئیس مارچ 1940کو لاہور کے منٹو پارک لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ جلسے میں تاریخی قرار داد پیش کی گئی۔اس سے چار روز قبل لاہور میں علامہ مشرقی کی
خاکسار تحریک نے پابندی توڑتے ہوئے کرفیو میں میں عسکری پریڈ کی، پولیس نے ان پر گولیاں چلائیں35 کے قریب خاکسار جان بحق ہوئے علاقے میں بہت کشیدگی تھی مگر مسلم لیگ کے کارکنوں نے بند دکانوں سے مالکان سے اجازت لے کر جلسے کے لیے سامان لیا ۔ شام تک جوق در جوق لوگ وہاں پہنچ گئے، مجیب الرحمٰن بھی بنگال سے وہاں پہنچے ۔
جلسے کے آغازمیں قائد اعظم رحمتہ اللہ علیہ نے خطاب کیا اور کہا بر صغیر میں مسئلہ فرقہ ورانہ نہیں دو قومی ہے، جن کا مذہب ،معاشرت سب ایک دوسرے سے جدا ہیں اور اس کا واحد حل دو ریاستی منصوبہ ہے ۔ بعد میں بنگال کے مولوی فضل الحق نے قرار داد پاکستان پیش کی کہ تقسیم ہند ضروری ہے ۔اپریل 1941 میں مدراس میں مسلم لیگ کے اجلاس میں قرار داد لاہور کوجماعت کے آئین میں شامل کر لیا گیا اور اسی کی بنیادپر پاکستان کی تحریک شروع ہوئی اور ہمیں آزادی کی نعمت ملی۔
سات سال کے قلیل عرصے میں 14 اگست 1947 کو پاکستان معرض وجود میں آیا ۔ پاکستان کی آزادی نعمت سے کم نہیں تھی ، اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس نعمت سے نوازا ۔ قائد اعظم نے کہا کہ پاکستان عظیم الشان مملکت ہے جو کلمہ طیبہ کے نام پر حاصل کی گئی اور پاکستان صرف زمین کا خطہ نہیں بلکہ تجربہ گاہ ہے جہاں اسلام کے سنہری اصولوں عملاً نافذ کیا جائے گا۔ اسی طرح بر صغیر کے مسلمانوں نے ہنود ونصاریٰ سے آزادی کی جنگ لڑی اور غلامی سے نجات حاصل کی جبکہ برطانوی حکومت اور ہندو جانتے تھے رمضان مسلمانوں کے لیے معتبر مہینہ ہے مگر تقسیم ہند کا اسی ماہ اعلان کیا گیا ۔۔۔۔
اس دن آزادی کی نعمت اور پھر ہجرت جو نبیوں کی معراج ہے مشکل تو تھی مسلمانوں کے لیے مگر انہوں نے ذرا بھی تاخیر نہیں کی۔ مسلمان لٹے پٹے اپنے گھروں کوچھوڑ تقسیم ہند کا سن کر قافلے لے کر چل پڑے کہ عید وہ اپنے وطن میں کریں گے ۔ 1930 میں آلہ آباد میں مسلم لیگ کے سالانہ جلسے میں علامہ اقبال نے دو قومی نظریہ پہلے ہیں پیش کردیا تھا کہ ھندوستان میں دوقومیں آباد ہیں جن کا مذہب ،تہذیب وتمدن معاشرت سب الگ ہے اور ان کو اکٹھے کرنا خانہ جنگی کو دعوت دینے کے مترادف ہے اور ہندوستان کی تقسیم ناگزیر ہے۔
اس تحریک پاکستان کے روح رواں جناب چودھری رحمت علی نے 1933میں اپنے کتابچے" نو اینڈ نیور" میں پہلی بار پاکستان کا لفظ استعمال کیا جس کا مطلب پاک لوگوں کی سر زمین ہے جو اللہ کی اہلیت اور ربوییت اور واحدانیت پر ایمان رکھتے ہیں ۔
اور ساری دنیا میں پاکستان بین الاقوامی حریت حمیت اور جرات کی علامت ہے
بھارت کشمیر پر زبردستی قبضہ کیے بیٹھا ہے وہ اکھنڈ بھارت کا خواب دیکھ رہا ہے ہے
اسرائیل گریٹر اسرائیل کا اسی لیے امریکہ اسرائیل اور بھارت کا گھٹ جوڑ ہے ساتھ دے ر ہے ہیں معاشی اخلاقی اور ٹیکنالوجی کے ہر میدان میں۔۔۔
اب بھی ایران اور غزہ یہود و نصار کا مقابلہ کر رہے ہیں۔
۔۔۔ فلسطینی بھوکے پیاسے تنہا ان کے حملوں کا اللہ اکبر کہ کر سامنا کرتے ہیں یہی ہمارا ایمان ہے کہ دنیا کا خالق و مالک اللہ تنہا ہے ۔
ایرانی بھی امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے ذرا خوفزدہ نہیں ہیں وہ حملوں میں معمول کی زندگی گزار ہیں ایران میں ایک مدرسے پر حملے میں 176بچے شہید ہوئے ۔۔
ایک ڈاکٹر فیس بک پر حملے کے دوران کہ رہی تھی الحمدوللہ ہم ڈرتے نہیں ہمارا ایمان ہے اللہ ہمارا مدد گار ہے اور اللہ اکبر کا نعرہ لگایا آیت علی خ ا م ن ی کی شہادت ہوئے سپریم لیڈر کی رمضان میں۔
وہ ہی تو ہےجو نظام ہستی چلا رہا ہے وہ ہی خدا ہے ۔
پاکستان چاروں طرف دشمنوں سے گھیرا ہے بھارت کے بعد افغانستان کواسلامی برادرملک ہے اس سے نبردآزما ہوا مگر حوصلے بلند ہے ۔
ہر پاکستانی کی پاکستان کی حفاظت و بقا ذمداری ہے آخری دم تک ۔۔۔
یہی پاکستانی ہونے اور 23 مارچ کا پیغام ہے اور یاد دہانی ہے ۔ وہی مسئلہ آزادی و خود مختاری پاکستان کو خطے میں پھر در پیش ہے ۔الحمدوللہ پاکستان ایٹمی پاور ہے ۔جتنے بھی شکرانے کے سجود ادا کریں وہ کم ہیں ۔
قرارداد پاکستان کی بدولت ہمیں آزادی کی نعمت ملی قرار داد پاکستان کی تحریک جب پورے ھندوستان میں چلی تو ہم آزاد ہوئے اور 23 مارچ اس کا سنگ میل تھی ۔۔۔۔۔
صبا احمد



































