
افروز عنایت
علماء کرام کے مطابق لفظ "عید " اصل میں عود سے بنا ہے جس کے معنی ہیں لوٹ کر واپس آنا ـ ،عید کو اسی لئے عید کہا گیا ہے کہ یہ تہوار زندگی میں بار بار یعنی ہر سال آتا
ہے، عیدین اللہ کی طرف سے عطا کیے وہ دن ہیں جو ہرسال ہمارے لئے خوشیاں لے کر آتے ہیں، ماہ رمضان میں قران پاک کا نزول جو ایک اعجاز ہے اور پھر بارگاہ الہٰی میں عبادات جو مغفرت کا ذریعہ اور باعث رحمت ہیں جس کا شکرانہ اور خوشی یہ عید الفطر اللہ کی طرف سے امت مسلمہ کے لئے ایک تحفہ ہے ۔
دین اسلام نے سال بھر میں عید کے دو دن مقرر کئے ہیں عید الفطر اور عید الاضحٰی ،یہ وہ خوشی کے تہوار ہیں جن میں ہم خود بھی خوشیاں مناتے ہیں اور دوسروں کو بھی خوشیاں دیتے ہیں ،لہٰذا ان خوشیوں کے تہواروں پر اپنے آس پاس کے لوگوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، اپنی بساط کے مطابق انہیں بھی خوشیوں میں شامل کرنا چاہیے ۔
ایک مرتبہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم عید کی نماز پڑھ کر واپس آرہے تھے، تو راستے میں ایک غریب یتیم بچے کو اداس بیٹھے دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے گھر لے کر آئے ام المومنین سے کہا اسے نہلا کر نئے کپڑے پہنائیں ،پھر آپ صلی اللہ علیہ نے اسے تمام دن کھلایا پلایا اور سارا دن اپنے ساتھ رکھا ــ، یہی تعلیم آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ہمیں فرمائی ہے ۔ اس وقت ہمارے سامنے ہماری امداد زکوٰۃ وغیرہ کے جو لوگ زیادہ مستحق ہیں ہم ان کی تکلیف کو کم تو نہیں کر سکتے لیکن شاید ہماری کچھ مالی امداد ان میں سے چند ایک کی ضرورت پوری کرسکے ، پھر ضروری نہیں کہ کسی غریب ہی کو ہم نوازیں بلکہ اپنے اقرباء دوست و احباب کو ہدیات تحفے تحائف دے کر یا ان کی ضیافت کرکے یا ان کا حال احوال پوچھ کر بھی انہیں خوشی دے سکتے ہیں اور یقیناً جو انسان دوسروں کو خوشی دیتا ہے ،وہ خود بھی پرسکون،خوش اور مطمئن رہتا ہے ۔اس لئے اگر اس عید کو واقعی میں خوشی سے گزارنا چاہتے ہیں تو دوسروں کو بھی اس خوشیوں والے تہوار میں ضرور شامل کریں ۔
خصوصا ًکسی روٹھے ہوئے دوست یا عزیز کو فون کرکے عید مبارک باددے کر اس کا حال احوال پوچھیں یہ بھی اس کے لئے ہدیہ سے کم نہیں ہوگا ،آج میں اپنے ارد گرد نظر دوڑاتی ہوں تو جگہ جگہ رشتوں میں فاصلے اور دوریاں نظر آتی ہیں ۔ بھائی بھائی سے دور ہے ۔ ایسے موقع پر اگر کسی روٹھے رشتے دار کو فون کرکے عید کی مبارک دیں تو یہ کمزوری نہیں بلکہ آپ کی نیکی تصور کی جائے گی اور آپ کے اس طرز عمل سے یقینا ًدلوں کے میل دھل جائیں گے ۔ صلہ رحمی کی برکات سے ہم سب مسلمان واقف ہیں ، اس لئے اس حسین موقع سے ضرور فائدہ اٹھائیں ،یہ نیکی اور باعث برکت ہے۔
اللہ رب العزت ہم سب کو دینی تعلیمات سے مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین



































