ایران کا اسرائیل پر 81 واں میزائل حملہ، 70 سے زائد اہداف نشانہ بنانے کا دعویٰ

تہران( ویب ڈیسک)پاسدارانِ انقلاب نے اسرائیل کے خلاف 81ویں میزائل حملوں کی لہر کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس کارروائی میں 70 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی حکام کے مطابق یہ اہداف شمالی اور جنوبی اسرائیل کے اہم شہری مراکز اور فوجی تنصیبات پر مشتمل تھے، جن میں حیفا اور تل ابیب شامل ہیں۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اس تازہ حملے میں عماد، قیام اور خرمشہر-4 سمیت مختلف بیلسٹک اور کروز میزائل استعمال کیے گئے، جن کا مقصد اسرائیل کی دفاعی صلاحیت کو کمزور کرنا اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانا تھا۔ ان کے مطابق یہ کارروائی خطے میں امریکی اور اسرائیلی مداخلت کے جواب میں کی گئی ہے۔

دوسری جانب ایرانی بحریہ نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ابراہم لنک (سی وی این 72) کو کروز میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ اس کارروائی کی منظوری ایرانی نیوی کے کمانڈر شاہرام ایرانی نے دی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی میزائل حملوں کے بعد امریکی بحری یونٹ نے اپنی پوزیشن تبدیل کر لی اور علاقے میں سرگرمیوں کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کیں۔

واضح رہے کہ امریکا کی جانب سے ایران کے ان دعوؤں پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ اسرائیل میں شہری علاقوں میں الرٹس جاری کر دیے گئے ہیں اور حفاظتی اقدامات میں اضافہ کیا گیا ہے۔ اسرائیل ڈیفنس فورس نے بھی اپنی فضائی دفاعی نظام کو مزید فعال کر دیا ہے۔