نیا دور اور ڈاکٹر جمیل جالبی کا ادارتی طلسم

ڈاکٹر رانا خالد محمود قیصر/کراچی

اردو زبان کے حوالے سے ڈاکٹر جمیل جالبی کا وژن نہایت واضح، متوازن اور قومی شعور سے لبریز تھا۔ ان کے نزدیک اردو محض ایک لسانی اکائی نہیں بلکہ تہذیبی اشتراک،

تاریخی تسلسل اور قومی یکجہتی کی علامت ہے۔ زیرِ نظر اداریوں کا مجموعہ اسی فکری روایت کا آئینہ دار ہے، جس میں زبان کو اختلاف نہیں بلکہ اتصال کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔

ماہنامہ نیا دور کراچی کے بانی مدیر کی حیثیت سے ڈاکٹر جمیل جالبی نے 1955 سے 1993 تک جو اداریے تحریر کیے، وہ دراصل پاکستان کے فکری، ادبی اور سماجی ارتقا کا ایک عہدنامہ ہیں۔ ان اداریوں میں زبان، تہذیب، تاریخ، قومی تشخص اور فکری سمت جیسے اہم موضوعات پر سنجیدہ اور مدلل اظہار ملتا ہے۔ اردو کے حوالے سے ان کا مؤقف نہایت واضح ہے کہ یہ زبان کسی علاقائی زبان کی حریف نہیں بلکہ ان سب کے درمیان ایک پُل کی حیثیت رکھتی ہے، جو مختلف اکائیوں کو ایک وحدت میں پروتی ہے۔

زیرِ نظر مجموعہ، جسے ڈاکٹر خاور جمیل، گلناز محمود اور مجید رحمانی نے محنتِ شاقہ سے مرتب کیا ہے، دراصل ایک فکری ورثے کی بازیافت ہے۔ ان اداریوں کی اشاعت نہ صرف ادبی دنیا کے لیے ایک قیمتی اضافہ ہے بلکہ نئی نسل کے لیے بھی رہنمائی کا ذریعہ ہے، تاکہ وہ زبان اور قومی شناخت کے باہمی رشتے کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔

ڈاکٹر جمیل جالبی کے یہ اداریے اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ اردو ایک زندہ اور متحرک زبان ہے، جو اپنی وسعت اور لچک کے باعث پورے ملک میں رابطے کی زبان بن چکی ہے۔ ان کے نزدیک اردو کا فروغ کسی دوسری زبان کی نفی نہیں بلکہ ایک مشترکہ قومی فضا کی تشکیل ہے، جہاں تمام لسانی اکائیاں اپنی شناخت برقرار رکھتے ہوئے ایک بڑے قومی دھارے میں شامل ہو سکیں۔

یہ مجموعہ اس امر کی گواہی دیتا ہے کہ زبان کا مسئلہ محض لسانی نہیں بلکہ تہذیبی اور قومی مسئلہ بھی ہے۔ ڈاکٹر جمیل جالبی نے اپنے اداریوں میں جس اعتدال، بصیرت اور دلیل کے ساتھ اس موضوع کو پیش کیا، وہ آج بھی اسی طرح معنویت رکھتا ہے۔ چنانچہ ان اداریوں کا مطالعہ نہ صرف ماضی کی فکری جہات کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے بلکہ حال اور مستقبل کے لیے بھی ایک واضح فکری سمت متعین کرتا ہے۔یہ ابتدائی تحریر دراصل اسی شعوری ورثے کا اعتراف ہے، جو اردو زبان کے ذریعے قومی یکجہتی، تہذیبی ہم آہنگی اور فکری بالیدگی کا ضامن ہے۔

ان متنوع اور ہمہ جہت موضوعات پر مشتمل یہ اداریے دراصل ڈاکٹر جمیل جالبی کے ادارتی شعور، فکری بصیرت اور عہد آگہی کا بھرپور مظہر ہیں۔ کتاب ہٰذا میں شامل 43 اداریے، جو شمارہ نمبر ایک سے 88 تک کے مختلف مراحل کا احاطہ کرتے ہیں، محض وقتی تحریریں نہیں بلکہ ایک پورے عہد کی فکری تاریخ کا تسلسل ہیں۔ ان میں جہاں ابتدائی شماروں میں نئے دور کا آئینہ اور مستقبل کی امیدیں جیسی عنوانات کے ذریعے ایک فکری سمت متعین کی گئی، وہیں بعد کے اداریوں میں اسی سمت کی توسیع، تنقید اور تجزیہ بھی پوری دیانت داری سے کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر جالبی کے اداریوں کا ایک نمایاں وصف یہ ہے کہ وہ قاری کو محض معلومات فراہم نہیں کرتے بلکہ اسے غور و فکر کی ایک مسلسل تحریک میں شامل کر دیتے ہیں۔ نیا دور کے مقاصد سے لے کر اردو کے مختلف رجحانات کا تجزیہ، ہنگامی ادب کی ضرورت اور نئی نسل کے لیے تخلیقی محرکات جیسے موضوعات اس بات کی دلیل ہیں کہ مدیر کی نظر صرف ادب تک محدود نہیں بلکہ وہ سماج، تاریخ، ثقافت اور فکری رویوں کو ایک کلی تناظر میں دیکھتے ہیں۔

اسی طرح بابائے اردو، نون میم راشد شخصیت و فن اور میکسم گورکی و ریلکے جیسے عالمی ادیبوں پر تحریر کردہ اداریے ڈاکٹر جالبی کے مطالعے کی وسعت اور بین الاقوامی ادبی شعور کی غمازی کرتے ہیں۔ وہ اردو ادب کو ایک محدود دائرے میں قید کرنے کے قائل نہیں بلکہ اسے عالمی ادب کے ساتھ ہم آہنگ دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کے ہاں روایت اور جدت کا ایک متوازن امتزاج ملتا ہے، جہاں جدیدیت، علامتی افسانہ اور نئے تجربات کی ضرورت جیسے مباحث بھی اسی سنجیدگی سے زیرِ بحث آتے ہیں جیسے تہذیب کا تماشہ یا کلچر کے روحانی عناصر۔

مزید برآں، ان اداریوں میں قومی اور سماجی مسائل پر بھی گہری نظر ملتی ہے۔ پاکستانی ثقافت کے مسائل، اجتماعی بصیرت کا زوال، ادب اور تخلیق کا حقیقی بحران اور اسلام اور فنونِ لطیفہ جیسے موضوعات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ڈاکٹر جالبی ادب کو محض جمالیاتی سرگرمی نہیں بلکہ ایک زندہ سماجی عمل سمجھتے ہیں، جو اپنے عہد کے سوالات سے جڑا ہوا ہے۔

ان اداریوں کا اسلوب بھی قابلِ توجہ ہے۔ زبان سادہ، شگفتہ اور براہِ راست دل میں اترنے والی ہے۔ کہیں بھی تصنع یا غیر ضروری پیچیدگی کا احساس نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ قاری کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے مدیر اس سے براہِ راست مکالمہ کر رہا ہو—اس کے سوالات کو سمجھ رہا ہو اور اس کے ذہن میں ابھرنے والے اشکالات کا جواب دے رہا ہو۔ یہ مکالماتی انداز ہی دراصل ڈاکٹر جالبی کے ادارتی وجدان کی اصل قوت ہے۔

یوں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ نیا دور کے یہ اداریے محض صحافتی تحریریں نہیں بلکہ فکری رہنمائی کا ایک ایسا سرمایہ ہیں، جو آج بھی اسی طرح زندہ اور مؤثر ہے۔ یہ اداریے نہ صرف اپنے عہد کی ترجمانی کرتے ہیں بلکہ آنے والے زمانوں کے لیے بھی فکری سمت متعین کرتے ہیں، اور یہی کسی بڑے مدیر اور دانشور کی پہچان ہوتی ہے۔

نیا دور کے شمارے( 8۔7 ) 1958ء کے اداریے۔۔ہنگامی ادب کی ضرورت۔۔۔ سے ایک اقتباس۔۔
اس اقتباس میں فکری جولانی، زبان کی سلاست اور معنویت اپنے عروج پر نظر آتی ہے۔۔"نیا دور کا ہر شمارہ پچھلے شمارے سے بہتر ہوتا ہے" اس روایت کو ہم نے اس شمارے میں بھی برقرار رکھا ہے اس دور میں ایک ڈھب کا رسالہ نکالنا جوئے شیر لانے سے بھی زیادہ دشوار ہے اس لیے کہ اگر فرہاد کو یہ معلوم ہوتا کہ نہر کھود کر مکمل کرنے کے بعد شیریں اس کے ہاتھ نہ ائے گی تو وہ شاید کھودنے سے پہلے ہی جان دے دیتا لیکن ہمارے ساتھ ستم یہ ہے کہ ہمیں معلوم ہے کہ ہر بار جوئے شیر کھودنے ہے اور ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ہے کہ شیریں تو ملنے سے رہی پھر بھی نہر کھودنے میں مصروف ہیں پھر اس پر طرح طرح کے مصائب مستزاد کاغذ کی کمیابی اور غیر معمولی گرانی احتساب کی بے جا سختی بعض دفعہ جی میں آتا ہے کہ اس عاشقی کو ہی سلام کر دیا جائے مگر پھر عشق پیشہ ہونے کا احترام آڑےے آ جاتا ہے"۔

ایک اور اداریے ۔۔مشہور جرمن شاعر۔رلکے۔۔1967، شمارہ نمبر 41 اور 42 سے ایک اقتباس۔۔جس مین نے م راشد کی شاعری کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔۔

"ن م راشد نے اردو شاعری کو نئے اسالیب اور نئے موضوعات دیے ہیں اس شمارے میں ہم ان کی چھ نظمیں ایک ساتھ شائع کر رہے ہیں راشد کی یہ نظمیں ان کے اپنے رنگ سخن کی نمائندہ نظمیں ہیں جن میں ان کے اسالیب کے بیشتر رنگ جھلک رہے ہیں ان میں ایسی نظمیں بھی ہیں جن میں ان کا مرموضی لب و لہجہ اونچے سروں میں ابھرتا نظر آرہا ہے اور ایسی نظمیں بھی جن میں آواز کی گداختگی اور تہداری ملتی ہے اس دور میں جب اچھے اچھے شاعروں کے رنگ ان کے "شعوری عمل" سے بے رنگ ہو گئے ہیں راشد کی شاعری میں وہ صداقت آج بھی موجود ہے جو ایک مضطرب روح اور صاحب_ فکر شاعر ہی کا حصہ ہے۔"

ڈاکٹر جمیل جالبی کے یہ اداریے محض ایک رسالے کی روایت نہیں بلکہ ایک پورے فکری عہد کی زندہ دستاویز ہیں، جن میں زبان، تہذیب اور قومی شعور ایک ہم آہنگ وحدت کی صورت جلوہ گر ہوتے ہیں۔ نیا دور کے صفحات میں بکھری ہوئی یہ تحریریں آج بھی اپنی معنویت، تازگی اور فکری توانائی کے باعث قاری کو نہ صرف متأثر کرتی ہیں بلکہ اسے ایک سنجیدہ مکالمے کا حصہ بنا دیتی ہیں۔ یہی وہ ادبی و فکری سرمایہ ہے جو ماضی کی بازیافت کے ساتھ ساتھ حال کی تفہیم اور مستقبل کی تشکیل میں بھی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ چنانچہ یہ کہنا بجا ہے کہ ڈاکٹر جمیل جالبی کا ادارتی شعور اردو ادب میں ایک ایسا روشن باب ہے، جس کی روشنی آنے والی نسلوں کے فکری سفر کو منور کرتی رہے گی۔۔

شہر شہر کی خبریں

ماہ رمضان میں مستحقین میں راشن کی تقسیم کے عمل کو کامیابی کے ساتھ مکمل کیا : عبد المعیز

کراچی( نمائندہ رنگ نو) رنگ نو ریڈرز کلب کے سیکریٹری وسماجی کارکن عبدالمعیز نے راشن ڈرائیو کا اہتمام کیا اور بانی رنگِ نو زین صدیقی کی بھرپور

... مزید پڑھیے

بنو قابل سب سے بڑا فری آئی ٹی ایجوکیشنل نیٹ ورک بن چکا :نوید علی بیگ 

 کراچی( نمائندہ رنگ نو ) چیف ایگزیکٹو الخدمت کراچی نوید علی بیگ نے کہا ہے کہ الخدمت کا بنو قابل پروگرام پاکستان کا سب سے بڑا فری آئی

... مزید پڑھیے

الخدمت اور اوشن نیٹ ورک کے تحت ’’باہمت‘‘ بچوں کیلئے افطار عشائیہ کا اہتمام

 کراچی (نمائندہ خصوصی) الخدمت آرفن کیئر پروگرام کے تحت اوراوشن نیٹ ورک ایکسپریس پرائیویٹ لمیٹڈ کے اشترک سے

... مزید پڑھیے

تعلیم

کراچی: سندھ میں نئے تعلیمی شیڈول کی منظوری، میٹرک اور انٹرمیڈیٹ امتحانات کی تاریخیں طے (تعلیم)

کراچی ( تعلیم ڈیسک )کراچی میں سندھ بھر کے تعلیمی نظام کے نئے شیڈول کی حتمی منظوری دے دی گئی جس کے تحت میٹرک کے سالانہ امتحانات 31

... مزید پڑھیے

پنجاب کے اسکولوں کی سردیوں کی تعطیلات میں توسیع، تعلیمی ادارے 19 جنوری کو کھلیں گے (تعلیم)

 لاہور ( تعلیم  ڈیسک )پنجاب کے تمام سرکاری و نجی اسکولوں کی سردیوں کی تعطیلات میں توسیع کر دی گئی ہے۔ وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر

... مزید پڑھیے

پنجاب میں موسمِ سرما کی تعطیلات کا باضابطہ اعلان کردیا گیا (تعلیم)

لاہور ( ویب ڈیسک )پنجاب کے اسکولوں میں موسمِ سرما کی تعطیلات کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

... مزید پڑھیے

کھیل

پاکستان کی بنگلہ دیش کے خلاف شاندار فتح، دوسرے ون ڈے میں 128 رنز سے کامیابی

ڈھاکا( اسپورٹس ڈیسک ) پاکستان کرکٹ ٹیم نے تین میچوں پر مشتمل ون ڈے سیریز کے دوسرے

... مزید پڑھیے

سپر ایٹ مرحلہ: جنوبی افریقہ کی بھارت کے خلاف 76 رنز سے فتح، گزشتہ فائنل کا بدلہ چکا دیا

احمد آباد: آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ کے 43ویں میچ اور سپر ایٹ مرحلے کے اہم مقابلے میں جنوبی

... مزید پڑھیے

معمار پریمیئر لیگ سیزن 8 ، شہید دانیال کرکٹ کلب کا فاتحانہ آغاز

کراچی ( رنگ نو اسپورٹس ڈیسک )معمار پریمیئر لیگ سیزن 8 کا رنگا رنگ آغاز عید گاہ گراؤنڈ

... مزید پڑھیے

تجارت

عالمی و مقامی مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں نمایاں کمی

کراچی( ویب ڈیسک ) عالمی اور مقامی سطح پر سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس

... مزید پڑھیے

نئے سال 2026 میں کل سے پٹرولیم صارفین کو بڑا ریلیف ملنے کا امکان

اسلام آباد ( ویب ڈیسک )نئے سال میں یکم جنوری 2026 سے صارفین کو پٹرول میں بڑا ریلیف ملنے کا امکان ہے،بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی

... مزید پڑھیے

اکتوبر 2025 کے دوران مہنگائی کی شرح ماہانہ بنیاد پر 1.83 فیصد بڑھ گئی

اسلام آباد(ویب ڈیسک،خبر ایجنسی)اکتوبر 2025 میں مہنگائی کی شرح ماہانہ بنیاد پر 1.83 فیصد بڑھ گئی۔ادارہ شماریات نے ماہانہ

... مزید پڑھیے

دنیا بھرسے

بھارتی سپریم کورٹ نے روح افزا کو باضابطہ "فروٹ ڈرنک" قرار دے دیا

ممبئی ( ویب ڈیسک ،فوٹو فائل ) بھارت کی سپریم کورٹ نے معروف مشروب

... مزید پڑھیے

پاکستان سے انڈیا جانےوالی سیما حیدر کے ہاں گیارہ ماہ میں دوسرے بیٹے کی پیدائش

ممبئی :غیر قانونی طور پر پاکستان سے بھارت منتقل ہونے والی سیما حیدر ایک بار پھر ماں بن گئی

... مزید پڑھیے

ایران سے تجارت پر پابندی: امریکا کا ممالک پر 25 فیصد اضافی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان

واشنگٹن :امریکا نے ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات رکھنے والے ممالک کے خلاف سخت معاشی اقدامات کا

... مزید پڑھیے

فن و فنکار

عشرت فاطمہ نے 45 سالہ طویل سفر کے بعد ریڈیو پاکستان کو الوداع کہہ دیا

پاکستان کی معروف اور سینئر نیوز کاسٹر عشرت فاطمہ نے پی ٹی وی کے بعد ریڈیو پاکستان سے بھی

... مزید پڑھیے

عابدہ پروین کی وفات کی خبریں بےبنیاد، گلوکارہ خیریت سے ہیں: اہلِ خانہ نے تصدیق کردی

معروف صوفی گلوکارہ عابدہ پروین کی وفات سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبریں جھوٹی، بےبنیاد اور گمراہ کن ہیں، اس بات کی

... مزید پڑھیے

بشریٰ انصاری کے نام سے جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس، اداکارہ کی سخت وارننگ

کراچی ( شوبز ڈیسک )سینئر اور لیجنڈری پاکستانی اداکارہ بشریٰ انصاری نے اپنے نام سے بنائے گئے جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے خلاف عوام کو

... مزید پڑھیے

دسترخوان

کریسپی چکن رولز

یاسمین شوکت

 

اجزاء

چکن بون لیس،اُبلااورریشہ کیاہوا،ایک کپ
اُبلےآلو،دوعدد،مسلےہوئے
ہری مرچ،دوعدد،باریک کٹی ہوئی
ہرا دھنیا، دو کھانے کے چمچ
چیڈر چیز، آدھا کپ

... مزید پڑھیے

کریمی اسٹفڈ چکن بالز

یاسمین شوکت

 

اجزاء

چکن کاقیمہ
ایک درمیانی پیاز،باریک کٹی ہوئی

دو سے تین ہری مرچیں، باریک کٹی ہوئی
ایک انڈہ

... مزید پڑھیے

چیز بھرے خستہ مرغی کے پراٹھے

 

اجزاء

مرغی کا مصالحہ بنانےکےلیے

بغیر ہڈی کاباریک کٹاہواچکن۲۵۰ گرام
ادرک لہسن کاپیسٹ ایک کھانےکاچمچ
پسی ہوئی لال مرچ ایک چائے کا چمچ

... مزید پڑھیے

بلاگ

قرارداد پاکستان (صبااحمد/ کراچی)

صبا احمد 

تئیس مارچ 1940کو لاہور کے منٹو پارک لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ جلسے میں تاریخی قرار داد پیش کی گئی۔اس سے چار روز قبل لاہور میں علامہ مشرقی کی

... مزید پڑھیے

عید امت مسلمہ کے لئے خوشی کا تہوار (افروز عنایت)

افروز عنایت

علماء کرام کے مطابق لفظ "عید " اصل میں عود سے بنا ہے جس کے معنی ہیں لوٹ کر واپس آنا ـ ،عید کو اسی لئے عید کہا گیا ہے کہ یہ تہوار زندگی میں بار بار یعنی ہر سال آتا

... مزید پڑھیے

نیا دور اور ڈاکٹر جمیل جالبی کا ادارتی طلسم (رانا خالد محمود قیصر)

ڈاکٹر رانا خالد محمود قیصر/کراچی

اردو زبان کے حوالے سے ڈاکٹر جمیل جالبی کا وژن نہایت واضح، متوازن اور قومی شعور سے لبریز تھا۔ ان کے نزدیک اردو محض ایک لسانی اکائی نہیں بلکہ تہذیبی اشتراک،

... مزید پڑھیے