
ڈاکٹر رانا خالد محمود/کراچی
دنیائے ادب کے وسیع و عمیق افق پر بعض شخصیات ایسی بھی نمودار ہوتی ہیں جو اپنی ہمہ جہت علمی و تخلیقی صلاحیتوں کے باعث ایک عہد کی نمائندگی کرنے لگتی ہیں۔ ڈاکٹر
معین الدین عقیل انہی نابغۂ روزگار اہلِ علم میں شمار ہوتے ہیں جن کی علمی کاوشیں اردو ادب، تاریخ، تہذیب، تحقیق اور بالخصوص مخطوطات کی بازیافت و تنقیح کے میدان میں ایک مستقل حوالہ بن چکی ہیں۔ ان کا کام محض تصنیف و تالیف تک محدود نہیں بلکہ ایک تہذیبی شعور کی تشکیل اور علمی روایت کے تحفظ کا بھرپور مظہر ہے۔
ڈاکٹر عقیل کی تصانیف کی کثرت اور تنوع ان کے غیر معمولی علمی انہماک کا بین ثبوت ہے۔ اردو میں پی ایچ ڈی اور ڈی لٹ جیسی اعلیٰ اسناد کے حامل ہونے کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنی تحقیقی بصیرت سے نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر بھی پذیرائی حاصل کی۔ جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی تاریخ و تہذیب، زبان و ادب اور نادر مخطوطات پر ان کی تحقیقات ایک ایسے علمی سرمائے کی حیثیت رکھتی ہیں جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
ان کی علمی زندگی کا ایک نہایت اہم اور منفرد پہلو ان کا ذاتی ذخیرۂ کتب ہے، جسے "عقیل کلیکشن" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ محض کتابوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک عہد کی فکری و تہذیبی تاریخ کا امین ہے۔ اسی ذخیرے کی جھلک ان کی تصنیف "حاصلِ عمر" میں ملتی ہے، جہاں وہ اپنی عمر بھر کی علمی رفاقتوں کو کتابوں کے آئینے میں پیش کرتے ہیں۔ یوں "حاصلِ عمر" نہ صرف ایک کتابی فہرست ہے بلکہ ایک صاحبِ علم کی زندگی بھر کی علمی وابستگیوں اور ذوقِ تحقیق کی داستان بھی ہے۔
ڈاکٹر معین الدین عقیل کی تصنیف حاصلِ عمر نہ صرف ان کے علمی و تحقیقی ذوق کا مظہر ہے بلکہ ان کی تہذیبی وابستگیوں اور خاندانی روایت کا بھی آئینہ دار ہے۔ یہ اہم کتاب رنگ ادب پبلیکیشنز کے زیرِ اہتمام 2025ء میں شائع ہوئی، جس کے 412 صفحات ہیں اور اس کی قیمت تین ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔ بظاہر یہ ایک کتابی فہرست یا ذاتی کتب خانے کی روداد معلوم ہوتی ہے، مگر درحقیقت یہ ایک صاحبِ علم کی پوری زندگی کے علمی سفر، ذوقِ مطالعہ اور تہذیبی شعور کی داستان اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔
کتاب کا انتساب بھی خاص معنویت کا حامل ہے، جو ڈاکٹر عقیل نے اپنے جدِ اعلیٰ سید علاؤ الدین شہید کے نام کیا ہے۔ وہ سید احمد شہید کی تحریکِ آزادی کے سرگرم رکن تھے اور حیدرآباد دکن میں اس جدوجہد سے وابستہ رہے۔ برطانوی استعمار کے خلاف مزاحمت کے نتیجے میں وہ گرفتار ہوئے، کالا پانی کی صعوبتیں برداشت کیں اور بالآخر 1892ء میں جامِ شہادت نوش کیا۔ اس انتساب کے ذریعے مصنف نے اپنے علمی ورثے کو ایک ایسی جدوجہد سے جوڑ دیا ہے جس کی بنیاد حریتِ فکر اور استقامت پر قائم ہے۔
حاصلِ عمر کی ساخت تین حصوں پر مشتمل ہے، جس کا پہلا حصہ تشکیلی دور ، میرا کتب خانہ۔ حصہ دوم عقیل کلیکشن کیوتو کی موضوعاتی فہرست اور حصہ سوم عقیل کلیکشن، ادارہ معارف_ اسلامی، کراچی پر مشتمل ہے ڈاکٹر معین الدین عقیل فرماتے ہیں کہ کتابوں کی کلیکشن کا ایک بڑا حصہ میں نے تحفظ اور عالمی استفادے کی خاطر جاپان کی ایک معروف یونیورسٹی کیو تو کے کتب خانے کی نظر کیا اور ایک خاصہ حصہ یہیں استفادہء عام کی خاطر کراچی کے" ادارہ معارف اسلامی" کے کتب خانے کے سپرد کیا۔ میرے جمع کردہ ذخیرہ کتب میں کیا کچھ ہے اس کا ایک اندازہ اس فہرست سے لگایا جا سکتا ہے جو اس وقت اپ کے ہاتھوں میں ہے۔
آپ ملاحظہ فرما سکتے ہیں اس طرح یہ کتاب محض کتب کی فہرست نہیں رہتی بلکہ ایک عہد، ایک خاندان اور ایک صاحبِ علم کی فکری و تہذیبی تاریخ کا مربوط بیانیہ بن جاتی ہے۔
ڈاکٹر معین الدین عقیل کے ذاتی کتب خانے کی وسعت اور تنوع اسے محض ایک نجی ذخیرۂ کتب نہیں رہنے دیتا بلکہ ایک ہمہ گیر علمی و تہذیبی مرکز کی صورت عطا کرتا ہے۔ اگرچہ اس کتب خانے میں ادب اور تاریخ سے متعلق کتب کو بنیادی حیثیت حاصل ہے، تاہم اس کی اصل انفرادیت ان متنوع علوم و فنون میں مضمر ہے جنہیں ڈاکٹر عقیل نے یکجا کر کے ایک جامع علمی منظرنامہ تشکیل دیا ہے۔ اسلامیات، مختلف مذاہب و مسالک، تفاسیر، تصوف اور فلسفہ جیسے دقیق موضوعات سے لے کر لفظیات، تعلیم اور علمی و تعلیمی اداروں پر مبنی کتب تک، ہر گوشۂ فکر یہاں اپنی نمائندگی کرتا نظر آتا ہے۔ مزید برآں، طبعیات، جغرافیہ، جنوبی ایشیا کے متنوع علمی و تہذیبی مباحث، لسانیات، صحافت، فنونِ لطیفہ، فنِ تعمیر اور تہذیب و ثقافت جیسے موضوعات پر مشتمل کتب کی کثیر تعداد اس ذخیرے کو غیر معمولی وسعت عطا کرتی ہے۔ اس ہمہ جہتی اور موضوعاتی تنوع نے اس کتب خانے کو ایک ایسا منفرد مقام بخشا ہے جہاں مختلف علوم ایک دوسرے سے ہم کلام ہوتے دکھائی دیتے ہیں، اور یہی وصف اسے ذاتی کتب خانوں میں نادر اور قابلِ رشک بناتا ہے۔
ڈاکٹر معین الدین عقیل نے اپنے اسلاف کی علمی روایت کو نہ صرف برقرار رکھا بلکہ اسے ایک نئی وسعت اور معنویت بھی عطا کی۔ ان کا ذاتی کتب خانہ محض ذخیرۂ کتب نہیں بلکہ ایک متحرک علمی مرکز کی حیثیت اختیار کر چکا ہے، جو اپنی فعالیت اور استفادیت کے اعتبار سے ڈاکٹر وحید قریشی اور مشفق خواجہ جیسے نامور اہلِ علم کے کتب خانوں سے بھی آگے بڑھتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ گزشتہ چند دہائیوں میں ذاتی کتب خانوں کے قیام اور ان کے فروغ کا رجحان نمایاں طور پر بڑھا ہے، خصوصاً ان افراد میں جنہیں وسائل کے ساتھ ساتھ علم و ادب سے گہری وابستگی بھی حاصل ہے۔ ایسے اہلِ ذوق نے کتاب دوستی کو محض شوق نہیں رہنے دیا بلکہ اسے ایک سنجیدہ علمی روایت کی صورت دے دی۔
اسی تناظر میں متعدد اہلِ علم کے ذاتی کتب خانے علمی دنیا میں اپنی اہمیت کے باعث ممتاز مقام رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر سہیل بخاری، ڈاکٹر شوکت سبزواری، ڈاکٹر ریاض الحسن، ڈاکٹر ابو سلمان شاہ جہاں پوری اور ڈاکٹر محمد ایوب قادری کے کتب خانے اس روایت کی نمایاں مثالیں ہیں۔ خصوصاً کراچی میں ڈاکٹر جمیل جالبی اور ڈاکٹر فرمان فتح پوری کے علمی ذخائر کو نہایت وقیع اور مستند حیثیت حاصل رہی ہے۔ اسی طرح سحر انصاری کے ذاتی کتب خانے نے بھی علمی حلقوں میں خاص مقام بنایا، جبکہ لاہور میں محمد عالم مختار حق، افضل حق قریشی، اکرام چغتائی اور اقبال مجددی کے کتب خانے اس ذوقِ کتاب دوستی کی بہترین مثالیں سمجھے جاتے ہیں۔
یوں دیکھا جائے تو ڈاکٹر معین الدین عقیل کا کتب خانہ اس پوری روایت کا ایک ارتقائی مرحلہ ہے، جہاں محض کتابیں جمع نہیں کی گئیں بلکہ انہیں ایک زندہ علمی ورثے کی صورت میں محفوظ اور فعال بنایا گیا ہے۔ یہ رجحان اس بات کا غماز ہے کہ اردو دنیا میں ذاتی کتب خانے نہ صرف علم کے محافظ ہیں بلکہ تحقیق و جستجو کے نئے امکانات بھی روشن کرتے ہیں۔
ڈاکٹر معین الدین عقیل کا امتیاز و اختصاص اس حقیقت میں مضمر ہے کہ وہ محض ایک محقق یا ادیب نہیں بلکہ ایک صاحبِ نظر دانشور اور ہمہ جہت اسکالر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے علمی جستجو کے سلسلے میں دنیا کے متعدد ممالک کا سفر کیا اور جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی تاریخ، تہذیب اور علمی روایت کے مطالعے کے لیے عالمی شہرت کی حامل جامعات، تحقیقی اداروں اور عظیم کتب خانوں سے بھرپور استفادہ کیا۔ ان علمی اسفار کے دوران انہوں نے نہ صرف توسیعی اور مہمان خطبات دیے بلکہ وہاں کے ممتاز اہلِ علم کے ساتھ مشترکہ تحقیقی منصوبوں میں بھی فعال شرکت کی، جس سے ان کے کام کو بین الاقوامی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی۔
تصنیف و تالیف کے میدان میں بھی ان کی خدمات غیر معمولی ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں ان کی 93 سے زائد کتب شائع ہو چکی ہیں، جو مختلف علمی، ادبی، تاریخی اور تہذیبی موضوعات کا احاطہ کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ 700 سے زائد تحقیقی مقالات، مضامین، ابواب اور مقدمات ان کے قلم سے نکلے، جو عالمی معیار کے تحقیقی مجلات، انسائیکلوپیڈیاز، کتابوں اور معتبر رسائل و جرائد میں شائع ہوئے۔ یوں ڈاکٹر عقیل کی علمی کاوشیں نہ صرف کمیت کے اعتبار سے قابلِ ذکر ہیں بلکہ معیار کے لحاظ سے بھی ایک مستند اور معتبر حوالہ بن چکی ہیں، جو انہیں عصرِ حاضر کے نمایاں محققین میں ممتاز مقام عطا کرتی ہیں۔
ڈاکٹر معین الدین عقیل کی شخصیت میں کتاب دوستی اور کتاب شناسی ایک ایسی نمایاں صفت کے طور پر جلوہ گر ہوتی ہے جو انہیں اپنے معاصرین میں منفرد مقام عطا کرتی ہے۔ ان کی علمی دلچسپیاں اور ذوقِ مطالعہ محض ذاتی شوق تک محدود نہیں رہے بلکہ ایک وسیع اور وقیع علمی سرمائے کی تشکیل کا سبب بنے۔ ان کا ذاتی کتب خانہ، جو جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی تاریخ، تہذیب اور ادب سے متعلق پچاس ہزار سے زائد نادر و قیمتی کتب، مخطوطات اور دستاویزات پر مشتمل ہے، بجا طور پر عالمی شہرت کا حامل ہے۔ یہ ذخیرہ نہ صرف ایک فرد کی علمی زندگی کا نچوڑ ہے بلکہ ایک پورے تہذیبی ورثے کی نمائندگی کرتا ہے۔
ڈاکٹر عقیل کی فیاضی اور علمی امانت داری کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اپنے اس بیش بہا ذخیرے کو محض ذاتی ملکیت تک محدود نہیں رکھا۔ اس میں سے تقریباً دس ہزار کتب کا ایک منتخب حصہ انہوں نے ادارہ تحقیقات اسلامی کراچی کو بطور ہدیہ پیش کیا، تاکہ علمی دنیا اس سے مستفید ہو سکے۔ مزید برآں، اٹھائیس ہزار کتب پر مشتمل ایک عظیم ذخیرہ جاپان کی کیوتو یونیورسٹی کے کتب خانے میں "عقیل کلیکشن" کے نام سے محفوظ ہے، جو ان کی علمی خدمات کے بین الاقوامی اعتراف کا بین ثبوت ہے۔
بلاشبہ، ڈاکٹر معین الدین عقیل کا نام عصرِ حاضر کے ان ممتاز اہلِ علم میں شمار ہوتا ہے جنہوں نے اپنی زندگی علم و تحقیق کے فروغ اور تہذیبی ورثے کے تحفظ کے لیے وقف کر دی۔ ان کی خدمات محض تصنیف و تالیف تک محدود نہیں بلکہ ایک ایسی علمی روایت کی آبیاری ہیں جو آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ وہ نہ صرف ایک محقق اور دانشور ہیں بلکہ ایک عہد ساز شخصیت ہیں، جن کا علمی ورثہ دیر تک اہلِ علم کے لیے مشعلِ راہ بنا رہے گا۔




































