
ڈاکٹر رانا خالد محمود قیصر
ڈاکٹر نثار احمد نثار عصرِ حاضر کے اُن باوقار اہلِ قلم میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے تدریس اور تخلیقی میدانوں میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ 2 جنوری
1950 کو کراچی میں پیدا ہونے والے ڈاکٹر صاحب کا اصل نام نثار احمد ہے، جبکہ ادبی دنیا میں وہ اپنے قلمی نام ڈاکٹر نثار احمد نثار سے معروف ہیں۔ آپ نے بی یو ایم ایس، ڈی ایچ ایم ایس، بی ایڈ، ایم اے اور ایم ایڈ جیسی متنوع تعلیمی اسناد حاصل کیں اور محکمۂ تعلیم میں گریڈ 17 کی گزٹڈ پوسٹ سے باعزت طور پر ریٹائر ہوئے۔ ادبی حوالے سے آپ کی تصانیف میں نعتیہ مجموعہ "نور الہدیٰ محمد ﷺ" اور غزلوں کا مجموعہ "آئینوں کے درمیان" خصوصی اہمیت کے حامل ہیں۔ اس کے علاوہ نصابی میدان میں "محب گلدستۂ اردو" (اول تا ہشتم) اور بچوں کے لیے "صبحِ نو" جیسی کتب آپ کی علمی و تخلیقی بصیرت کا ثبوت ہیں۔
حکومتِ سندھ کی جانب سے نظرثانی شدہ نصاب کی تیاری میں بھی آپ نے نمایاں کردار ادا کیا اور جماعت اول تا ہشتم کے لیے نصاب مرتب کیا ہے ۔ عملی و ادبی سرگرمیوں میں آپ مرکزی خازن سندھ ایجوکیشن سپروائزر یونین، پبلیسٹی سیکرٹری سرونٹ آف ایجوکیشن سوسائٹی کراچی، بانی و چیئرمین بزمِ یارانِ سخن کراچی، رکن کراچی آرٹس کونسل اور روزنامہ جسارت کے کلچرل رپورٹر کی حیثیت سے بھی سرگرمِ عمل ہیں۔ آپ کی ہمہ جہت شخصیت علم، ادب اور خدمتِ خلق کا حسین امتزاج پیش کرتی ہے۔
بزمِ یارانِ سخن کراچی کی ادبی فضا میں کئی دہائیوں سے ایک معتبر اور فعال ادبی انجمن کے طور پر اپنی شناخت قائم کیے ہوئے ہے۔ یہ بزم باقاعدگی اور وقت کی پابندی کی عمدہ روایت کو برقرار رکھتے ہوئے ہر ماہ مشاعروں کا انعقاد کرتی ہے، جن کا انتظام و انصرام نہایت سلیقے اور حسنِ ترتیب کے ساتھ انجام دیا جاتا ہے۔ اس تسلسل اور سنجیدگی کے باعث بزم نہ صرف شعرا و ادبا کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم بن چکی ہے بلکہ ادبی حلقوں میں بھی اسے قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اسی حوالے سے ڈاکٹر نثار احمد نثار ایک معروف اور معتبر ادبی شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں، جن کی خدمات نے اس بزم کو استحکام اور وقار عطا کیا ہے۔
نثار احمد نثار کی شخصیت محض ایک شاعر کی نہیں بلکہ ایک مسلسل جدو جہد کرنے والے صاحبِ عزم انسان کی ہے۔ آغاز ہی سے ان کے اندر محنت، شوق، ارادہ اور خوابوں کی جو روشنی تھی، وہ وقت کے تیز بہاؤ کے ساتھ مدھم ہونے کے بجائے اور زیادہ تابندہ ہوتی گئی۔ نثار نے اپنے عہد کی تاریکیوں کو محض بیان نہیں کیا بلکہ انہیں اپنے شعور اور تجربے کی روشنائی سے ایک معنوی سفر میں ڈھال دیا۔ وہ روایت کے اسیر نہیں بلکہ آگے بڑھ کر نئے امکانات تراشنے والے تخلیق کار ہیں۔ ان کی شاعری محض لفظی صناعی یا علمی کرتب نہیں، بلکہ زندگی کے گہرے تجربات، داخلی کرب اور خارجی مشاہدے کی سچی ترجمان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا لہجہ قاری کو محض متاثر نہیں کرتا بلکہ اسے اپنے ساتھ ایک فکری اور احساسی سفر پر بھی لے جاتا ہے
یہ سفر ڈاکٹر نثار احمد نثار کے ادبی، سماجی اور اخلاقی اقدار کا آئینہ ہے۔
**تمام عمر ترے نام پر گزاری ہے
مجھے سنوارنا اب تری ذمہ داری ہے
اپنے اندر ایک گہرا سماجی اور تہذیبی شعور سموئے ہوئے ہے۔ بظاہر یہ شعر محبوب اور محب کے مابین تعلق کا اظہاریہ محسوس ہوتا ہے، مگر اس کی تہہ میں اجتماعی زندگی کا ایک اخلاقی منشور پوشیدہ ہے۔ شاعر نے “تمام عمر ترے نام پر گزاری ہے” کہہ کر وفا، ایثار اور خود سپردگی کی اُس روایت کو زندہ کیا ہے جو مشرقی تہذیب، بالخصوص پاکستانی و اسلامی معاشرت کی بنیاد رہی ہے۔ یہاں “نام” محض فردِ واحد کا نہیں بلکہ کسی نظریے، رشتے، سماجی ادارے یا قومی و تہذیبی شناخت کا استعارہ بھی بن سکتا ہے۔ اس کے مقابل مصرعِ ثانی میں “مجھے سنوارنا اب تری ذمہ داری ہے” ایک توازنِ حقوق و فرائض کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ گویا شاعر یک طرفہ قربانی کے بجائے باہمی ذمہ داری کے اصول کو سماجی بقا کا ضامن قرار دیتا ہے۔
تنقیدی اعتبار سے یہ شعر معاشرتی معاہدے کے تصور سے ہم آہنگ دکھائی دیتا ہے جہاں فرد اپنی توانائیاں اور وقت کسی رشتے یا نظام کے لیے وقف کرتا ہے تو بدلے میں اس کی تربیت، فلاح اور کردار سازی معاشرے کی ذمہ داری قرار پاتی ہے۔ ہمارے موجودہ سماجی تناظر میں، جہاں انفرادیت پسندی اور خود غرضی بڑھ رہی ہے، یہ شعر ایک اخلاقی یاد دہانی ہے کہ تعلقات صرف جذباتی وابستگی کا نام نہیں بلکہ عملی ذمہ داری کا تقاضا بھی کرتے ہیں۔ تہذیبی سطح پر یہ شعر مشرقی اقدار—وفاداری، عہد نبھانا، ایثار، اور تربیتِ نفس—کو جدید شعور کے ساتھ جوڑتا ہے۔ اگر معاشرے کے تمام افراد اپنے اپنے دائروں میں اسی اصولِ ذمہ داری کو اختیار کر لیں تو باہمی اعتماد مضبوط ہو، محبت اور رواداری کو فروغ ملے، اور اجتماعی رویّے مثبت سمت اختیار کریں۔ یوں یہ شعر محض عشقیہ اظہار نہیں بلکہ ایک سماجی و تہذیبی منشور کی حیثیت رکھتا ہے جو فرد اور معاشرہ دونوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلاتا ہے۔
ایک اور روحانی محبت سے بھرپور سعر کی تفہیم ملاحظہ کیجیے۔۔
**ماں کی خدمت سے تو مشروط نہیں ماں کی دعا
ماں تو، اولاد کو ویسے بھی دعا دیتی ہے
یہ شعر ماں کی بے لوث محبت اور اس کی فطری شفقت کی نہایت خوبصورت ترجمانی کرتا ہے۔ شاعر کہنا چاہتا ہے کہ ماں کی دعا کسی شرط یا صلے کی محتاج نہیں ہوتی کہ اولاد اس کی خدمت کرے تب ہی وہ دعا دے۔ ماں کا دل اس قدر وسیع اور محبت سے لبریز ہوتا ہے کہ وہ اپنی اولاد کو بغیر کسی غرض، بغیر کسی توقع کے ہمیشہ دعاؤں میں یاد رکھتی ہے۔
دوسرے مصرعے میں اسی حقیقت کو مزید واضح کیا گیا ہے کہ ماں کی دعا ایک فطری عمل ہے—وہ اولاد کی کوتاہیوں، مصروفیات یا بے اعتنائی کے باوجود بھی اسے دل سے چاہتی اور اس کے لیے خیر مانگتی رہتی ہے۔ یوں یہ شعر ماں کی محبت کی پاکیزگی، بے غرضی اور اس کی دعا کی دائمی حیثیت کو نہایت سادگی اور اثر انگیزی سے بیان کرتا ہے۔
*"سر مقتل کھڑا ہوں مدتوں سے
میں تفسیر کتاب کربلا ہوں
اس شعر کی تفہیم ملاحظہ فرمائیں
یہ شعر کربلا کے استعارے کو ایک داخلی، فکری اور وجودی تجربے میں ڈھال دیتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ وہ مدتوں سے “سرِ مقتل” کھڑا ہے، یعنی ایک ایسی جگہ جہاں حق و باطل کی کشمکش اپنے انتہائی کرب اور شدت میں ہے۔ یہ صرف تاریخی منظر نہیں بلکہ ایک مسلسل جاری انسانی اور اخلاقی امتحان کی علامت ہے۔
دوسرے مصرعے میں “میں تفسیرِ کتابِ کربلا ہوں” کہہ کر شاعر خود کو کربلا کے پورے فکری و جذباتی متن کی شرح بنا دیتا ہے۔ یعنی کربلا اس کے لیے محض ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات، ایک اخلاقی فلسفہ اور قربانی کی زندہ روایت ہے، جس کی وہ خود علامتی تعبیر ہے۔
ڈاکٹر نثار احمد نثار کی شاعری کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس شعر میں ان کا وہی مخصوص رنگ جھلکتا ہے جس میں تاریخ، مذہب اور عصری شعور ایک ساتھ ضم ہو جاتے ہیں۔ ان کے ہاں کربلا محض ماتمی روایت نہیں بلکہ ضمیر کی بیداری، حق گوئی اور مزاحمت کی علامت بن جاتی ہے۔ یہ شعر بھی اسی فکری تسلسل کا حصہ ہے جہاں شاعر خود کو اس جدوجہد کا “زندہ متن” بنا کر پیش کرتا ہے، جو خاموش نہیں بلکہ مسلسل معنی پیدا کر رہا ہے۔
**کاروبار_ زیست کے کچھ مسئلے حل ہو گۓ
جب مرا بیٹا مرے قد کے برابر ہو گیا
یہ شعر زندگی کے ایک نہایت تلخ مگر فطری تجربے کو سادہ مگر گہرے انداز میں پیش کرتا ہے۔ پہلے مصرعے میں “کاروبارِ زیست کے کچھ مسئلے حل ہو گئے” کہہ کر شاعر بظاہر زندگی کی الجھنوں کے حل ہونے کا ذکر کرتا ہے، مگر یہ حل خوشی کے بجائے ایک داخلی تبدیلی کی طرف اشارہ ہے۔
دوسرے مصرعے میں اصل معنی کھلتا ہے کہ “جب مرا بیٹا مرے قد کے برابر ہو گیا”—یعنی جب بیٹا جسمانی اور ذہنی طور پر اس مقام تک پہنچ گیا کہ وہ باپ کے برابر کھڑا ہونے کے قابل ہو گیا، تب باپ کی زندگی کی کئی ذمہ داریاں، فکری الجھنیں اور عملی پریشانیاں نسبتاً کم ہو گئیں۔
یہاں “مسائل حل ہونے” سے مراد کوئی بیرونی کامیابی نہیں بلکہ وقت کا گزرنا، نسل کی تبدیلی اور ذمہ داریوں کی منتقلی ہے۔ اس میں باپ کی عمر رسیدگی، تجربے اور زندگی کے فطری سفر کی ایک خاموش مگر گہری کہانی پوشیدہ ہے۔ یہ شعر زندگی کے تسلسل، نسلوں کے ربط اور وقت کے ساتھ بدلتے ہوئے انسانی رشتوں کی خوبصورت عکاسی کرتا ہے۔
چند اثر انگیز اشعار ملاحظہ فرمائیں
پرائی آگ اٹھا لائے اپنی بستی میں
ہر ایک گھر سے دھواں اٹھ رہا ہے مدت سے
* نہ جانے کتنے ہنر آزمانے پڑتے ہیں
ہوا کے مد_ مقابل دیا جلاتے ہوئے
* سیڑھی سے کبھی قد میں اضافہ نہیں ہوتا
خیرات کی پوشاک سے عزت نہیں ملتی
اختر سعیدی کے اس قول میں ڈاکٹر نثار احمد نثار کی فنی عظمت اور ان کی سنجیدہ شعری ریاضت کو نہایت بلیغ انداز میں سراہا گیا ہے۔ وہ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اگرچہ ڈاکٹر نثار کو حضرت راغب مرادآبادی جیسے استادِ فن کی شاگردی نصیب ہوئی، مگر انہوں نے محض رسمی اصلاح پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اپنے کلام کو عملی میدان—یعنی بساطِ ادب—پر پرکھوایا۔ "شعروں پر اصلاح" لینے کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے اپنی تخلیقی صلاحیت کو حقیقی تنقیدی عمل سے گزارا، نہ کہ صرف کاغذی مشق تک محدود رکھا۔ اسی لیے آج بھی وہ ادبی منظرنامے پر ایک زندہ اور معتبر نام کے طور پر موجود ہیں، جبکہ وہ لوگ جو محض رسمی یا سطحی اصلاح تک محدود رہے، وقت کی گرد میں گم ہو گئے۔ یہ قول دراصل خلوصِ فن، عملی ریاضت اور ادبی صداقت کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
۔ ڈاکٹر نثار احمد نثار کا شعری مجموعہ “آئینوں کے درمیان” اردو شاعری کی اس روشن روایت کا تسلسل ہے جس میں آئینہ محض ایک شے نہیں بلکہ شعور، سچائی، خود آگہی اور عہد کی پیچیدگیوں کا علامتی اظہار بن جاتا ہے ۔ ڈاکٹر نثار احمد نثار کی شناخت آئینہ ہے ۔۔آپ نے آئینے کا استعارہ 58 مرتبی استعمال کیا ہے۔ شاید کسی اور مجموعے میں اتنا آئینے کا ذکر مشکل ہی سے ملے گا ملک کے سیاسی حالات سے باخبر سیاسی مسائل کا ادراک رکھتے ہیں اور ان کی جڑوں کی بھی نشاندہی کرتے ہیں اور اس طرح کرتے ہوئے اپ سمندر کو ایک روزے میں بند کر کے اپنے مطلب کا اظہار کرتے ہیں ۔ملک کے سیاسی حالات سے باخبر سیاسی مسائل کا ادراک رکھتے ہیں اور ان کی جڑوں کی بھی نشاندہی کرتے ہیں اور اس طرح کرتے ہوئے اپ سمندر کو ایک روزے میں بند کر کے اپنے مطلب کا اظہار کرتے ہیں۔ زیرِ نظر مجموعہ اس امر کی بھرپور شہادت پیش کرتا ہے کہ شاعر نے آئینے کے استعارے کو محض روایت کے طور پر نہیں برتا بلکہ اسے عصرِ حاضر کی فکری، سماجی اور نفسیاتی الجھنوں سے ہم آہنگ کر کے ایک نئی معنویت عطا کی ہے۔ نثار احمد نثار کی شاعری میں آئینہ کبھی ذات کا محاسبہ ہے، کبھی سماج کی بے چہرگی کا انکشاف، اور کبھی اس شکستہ سچ کا عکس جو ہم دیکھنا تو چاہتے ہیں مگر برداشت نہیں کر پاتے۔
یہ مجموعہ ایک ایسے عہد کی نمائندگی کرتا ہے جہاں انسان بظاہر شفاف مگر باطن میں نہایت نازک اور شکست پذیر ہو چکا ہے—گویا ہم سب شیشے کے گھروں میں مقیم ہیں، جہاں ہر نظر، ہر لفظ اور ہر سچ ایک ممکنہ خطرہ بن سکتا ہے۔ نثار احمد نثار نے اسی نازک صورتِ حال کو آئینے کے پیکر میں ڈھال کر نہایت شدت، سچائی اور فنی مہارت کے ساتھ پیش کیا ہے۔ ان کی غزلوں میں آئینہ محض عکس دکھانے والا وسیلہ نہیں بلکہ ایک ایسا تخلیقی استعارہ ہے جو قاری کو اپنے باطن میں جھانکنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
“آئینوں کے درمیان” نہ صرف شاعر کی فکری پختگی کا آئینہ دار ہے بلکہ یہ مجموعہ اردو غزل میں استعارہ سازی کی ایک تازہ اور توانا مثال بھی ہے۔ بلا شبہ، عصرِ حاضر میں آئینے کے استعارے کو جس شدّت اور وسعت کے ساتھ نثار احمد نثار نے برتا ہے، وہ انہیں اپنے معاصر شعرا میں ایک منفرد اور معتبر مقام عطا کرتا ہے۔
آئینہ محض ایک بصری شے نہیں بلکہ اصلاحِ معاشرہ کا بنیادی وسیلہ ہے، اس لیے اردو شعرا نے ہمیشہ اسے ایک مؤثر استعارے کے طور پر برتا ہے۔ آئینہ سچ کی نمائندگی کرتا ہے—وہ سچ جو انسان کو اس کے ظاہر و باطن سے روشناس کراتا ہے اور اسے اپنی کمزوریوں، تضادات اور سماجی رویّوں پر نظرِ ثانی پر آمادہ کرتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ کلاسیکی سے جدید اردو شاعری تک آئینہ خود احتسابی، اخلاقی بیداری اور سماجی شعور کی علامت کے طور پر نمایاں رہا ہے۔
تاہم عصرِ حاضر میں ڈاکٹر نثار احمد نثار کا امتیاز یہ ہے کہ انہوں نے آئینے کے استعارے کو محض روایت کے تسلسل کے طور پر نہیں اپنایا بلکہ اسے ایک فکری اور تہذیبی بیانیہ بنا دیا ہے۔ ان کی شاعری میں آئینہ صرف عکس دکھانے والا نہیں بلکہ ایک سوالیہ نشان ہے، ایک کڑا محاسبہ ہے، اور ایک ایسا تخلیقی استعارہ ہے جو فرد اور معاشرے دونوں کو اپنی حقیقت سے روبرو کرتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ نثار احمد نثار نے آئینے کو اپنی شعری کائنات کا مرکزی حوالہ بنا کر اسے نئی معنوی جہتوں سے ہمکنار کیا ہے۔
اسی بنیاد پر یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ آئینے کے استعارے کو جس شدت، تسلسل اور فکری گہرائی کے ساتھ نثار احمد نثار نے برتا ہے، وہ انہیں اس میدان میں ایک نمایاں اور معتبر مقام پر فائز کرتا ہے—حتیٰ کہ وہ اس روایت کے سرخیلوں میں شمار ہوتے دکھائی دیتے ہیں، جہاں آئینہ محض عکس نہیں بلکہ اصلاحِ احوال کا ایک طاقتور استعارہ بن کر ابھرتا ہے۔
ڈاکٹر نثار احمد نثار ہمہ جہت شخصیت کے حامل ایسے اہلِ قلم ہیں جنہوں نے ادب، تدریس اور صحافت—تینوں میدانوں میں اپنی متوازن اور مؤثر خدمات کے ذریعے نمایاں مقام حاصل کیا۔ ادبی حوالے سے وہ ایک سنجیدہ اور باوقار شاعر ہیں جن کی تخلیقات میں فکری گہرائی، عصری شعور اور علامتی اظہار کی خوبصورت آمیزش ملتی ہے؛ ان کے نعتیہ مجموعہ "نور الغدادی محمد ﷺ" اور غزلیہ مجموعہ "آئینوں کے درمیان" ان کی شعری بصیرت کے مظہر ہیں۔ تدریسی میدان میں انہوں نے محکمۂ تعلیم میں اپنی خدمات کے دوران نہ صرف نسلِ نو کی علمی و اخلاقی تربیت کا فریضہ انجام دیا بلکہ نصابی کتب کی تیاری میں بھی اہم کردار ادا کیا؛ "محب گلدستۂ اردو" اور "صبحِ نو" جیسی درسی کتب ان کی تعلیمی فکر اور تدریسی تجربے کی آئینہ دار ہیں، جبکہ حکومتِ سندھ کے نظرثانی شدہ نصاب کی تشکیل میں ان کی شرکت ان کی علمی حیثیت کا واضح اعتراف ہے۔ صحافتی میدان میں بطور کرائم رپورٹر روزنامہ "جسارت" سے وابستگی نے انہیں سماجی حقائق کے قریب رکھا، جس کا عکس ان کے شعور اور تحریروں میں بھی جھلکتا ہے۔ مزید برآں، بزمِ یارانِ سخن کراچی کے بانی و چیئرمین کی حیثیت سے انہوں نے ادبی سرگرمیوں کو فروغ دیا، باقاعدہ مشاعروں کے انعقاد کے ذریعے شعرا و ادبا کو ایک فعال پلیٹ فارم فراہم کیا، اور یوں کراچی کی ادبی فضا کو جِلا بخشی۔ ان کی یہ ہمہ گیر خدمات انہیں ایک باوقار ادبی، تعلیمی اور سماجی شخصیت کے طور پر ممتاز کرتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ ڈاکٹر نثار احمد نثار کو صحتِ کاملہ، درازیٔ عمر اور مزید علمی و ادبی فیوض و برکات سے نوازے۔ ان کی قلمی کاوشوں میں مزید نکھار اور اثر پیدا فرمائے اور انہیں اپنے علم و فن کے ذریعے معاشرے کی رہنمائی کا ذریعہ بنائے۔ اللہ کرے ان کی خدمات کا سلسلہ یونہی جاری رہے اور ان کی محنت و اخلاص کو شرفِ قبولیت عطا ہو۔ آمین۔



































