اسلام آباد(وبب ڈیسک ،خبر ایجنسی)پاکستان مسلم لیگ(ن) کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہا ہے کہ بلاول بھٹو اور اس
حکومت کی اطلاع کیلئے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ نواز شریف عمران خان سے کوئی این او سی لے کر نہیں گئے۔
نجی ٹی و ی سے گفتگو میں بانہوں نے کہا کہ نواز شریف کی بیماری نہایت پیچیدہ ہے ،ان کے پلیٹ لیٹس بڑھانے کی مسلسل دوائیں دی جارہی ہیں ، یہ سب حقائق حکومت کے علم میں لائے جارہے ہیں مگر افسوس نواز شریف کی بیماری کو اسی طرح سیاسی رنگ دیا جارہا ہے جس طرح بیگم کلثوم نواز کی بیماری کو سیاسی رنگ دیا گیا حکومتی خط کی کوئی حیثیت نہیں اوربرطانیہ میں بھی حکومت کی جگ ہنسائی ہوگی ۔
احسن اقبال نے کہاکہ نواز شریف کو وطن واپس لانے کا حکومتی خط اس کھیل کا حصہ ہے جو حکومت پہلے دن سے کھیل رہی ہے کہ مخالفین کی کردار کشی کی کہانیاں نشر کرتے جاﺅ اور اپنی کارکردگی میں ناکامی پر توجہ ہٹانے کیلئے کوئی نیا پلاٹ کھڑا کرلو۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے عدالت سے رجوع کیا اورعدالت نے ان کے اس حق کو تسلیم کیا کہ ان کا مرض چونکہ بہت سنگین ہے اس لئے ان کا حق ہے کہ انہیں وہ باہر جاکر علاج کرانے کی اجازت دی جائے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے کسی میڈیکل ونگ نے ان کی رپورٹیں نہیں بنائیں
کے ڈاکٹروں اور حکومت کی وزیر صحت یاسمین راشد نے نواز شریف کے مرض کی تصدیق کی۔ پھر عمران خان نے خود شوکت خانم ہسپتال کے سربراہ جو عمران خان کے ذاتی دوست بھی ہیں جنہوں نے جاکر نواز شریف کا معائنہ کیا اور ان کی بیماری کی تصدیق کی ۔ احسن اقبال نے کہاکہ نواز شریف کی سب رپورٹیں حکومت کو مل رہی ہیں یہ صرف اس کو سیاسی تنازعہ بنانے کیلئے تماشا بنارہے ہیں۔














