
اسلام آباد(ویب ڈیسک)منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کے خلاف کارروائی کے حوالے سے پاکستان کی کارکردگی کا
جائزہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے 21 سے 26 جون تک جاری رہنے والے اجلاس میں لیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق فروری میں پیرس سے تعلق رکھنے والے مالیاتی جرائم کے اس عالمی واچ ڈاگ نے پاکستان کو منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کے خلاف 27 نکاتی ایکشن پلان پر عمل کیلیے 4 ماہ کا اضافی وقت دیا تھا جس میں اس وقت پاکستان 14 پر عمل کرچکا تھا جبکہ 13 پر عمل کرنا باقی تھا۔اس حوالے سے ایک سینیئر سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ 21 سے 26 جون تک بیجنگ میں منعقد ہونے والے ایف اے ٹی ایف اور یوریشین گروپ کے جوائنٹ ورکنگ گروپ اجلاس میں لیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ اس اجلاس میں لیے گئے جائزے کی بنیاد پر اکتوبر میں اس بات کا اعلان ہوگا کہ پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالا جائے یا نہیں۔عہدیدار نے بتایا کہ کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے لگائے لاک ڈاؤن کی وجہ سے کچھ ایکشن پلان پر عمل کرنا اب بھی باقی ہے۔عہدیدار نے بتایا کہ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے ساتھ فروری میں کیے گئے وعدوں کی تکمیل کے لیے ایک وسیع البنیاد حکمت عملی اپنائی ہے اور اس میں تیزی سے پیش رفت حاصل کررہا ہے۔














