
راولپنڈی (ویب ڈیسک،خبر ایجنسی)وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے کہا ہے کہ تحقیقاتی رپورٹ25اپریل کے بعد آتی تو اچھا ہوتا لیکن اب
عمران خان اور حکومت کا امتحان شروع ہوچکا ہے۔ جہانگیرترین اور عمران خان کے درمیان تعلقات بہت گہرے تھے۔ اب عمران خان کا امتحان ہے کہ وہ25 اپریل کے بعد ان کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔ کپتان جب چاہے فیلڈنگ بدل سکتا ہے۔ حکومت میں کوئی گروپ بندی نہیں،کپتان نے صرف فیلڈنگ بدلی ہے،
راولپنڈ ی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان جانتے ہیں کس کو کہاں تک لے کر جانا ہے۔وزیر ریلوے نے کہا وزیراعظم اپنے سینے سے فیصلے لگا کر رکھتے ہیں، عمران خان کو 2سال ہوگئے اور اب وہ معاملات سمجھتے ہیں۔
۔ پاکستان ریلوے کی ٹرین آپریشن دوبارہ شروع کرنے کی تیاریاں مکمل ہیں،وزیراعظم جیسے ہی لاک ڈاؤن ختم اور ٹرین آپریشن بحال کرنے کے احکامات جاری کرینگے اس کے 24گھنٹوں میں 142ٹرینیں ٹریک پر لے آئیں گے۔
انہوں نے کہا ملک کی بدقسمتی ہے بزنس مین سیاست میں آئے جس کے بعد مافیاز مضبوط ہوئے اور ملک کو نقصان پہنچا۔ شیخ رشید نے بتایا کہ سبسڈی دینے میں اسدعمر کا کوئی کردار نہیں لیکن اگر رزااق داؤد کا کہا جائے تو ظاہر ہے وہ انڈسٹری منسٹر تھے۔شیخ رشید نے کہا کہ جہانگیرترین اور عمران خان کے تعلقات میں جو دراڑ پڑی ہے وہ ختم بھی ہو سکتی ہے۔وزیرِ ریلوے شیخ رشید احمد نے چینی کے بحران کے حوالے سے ایف آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ رپورٹ لیک ہوئی تو اچھا ہوا۔ فیصلے وزیرِ اعظم عمران خان نے کیے ان کے بارے میں مجھے بھی معلوم نہیں تھا۔














