ملک میں گندم اور چینی کی وافر دستیابی کو یقینی بنایا جائے:،وزیرِاعظم عمران خان

اسلام آباد( ویب ڈیسک )وزیرِ اعظم عمران خان نے ہدایت کی ہے کہ ملک میں گندم اور چینی کی وافر دستیابی کو یقینی

بنایا جائے اور گندم کی درآمد میں پیش رفت پر انہیں مسلسل آگاہ رکھا جائے۔ وزیر اعظم کی زیر صدارت ملک میں گندم اور چینی کی دستیابی اور قیمتوں کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا ۔
وزیرِ اعظم کو ملک میں گندم کی دستیابی کی صورتحال، نجی اور سرکاری سطح پر کی جانے والے درآمد میں اب تک کی پیش رفت پر تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی ۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ نجی شعبے کی جانب سے اب تک تقریباً چار لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کی جا چکی ہے۔ مزید دس لاکھ ٹن اگلے ماہ ملک میں پہنچ جائے گی۔ چیئر مین ٹی سی پی (ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان) نے بتایا کہ سرکاری سطح پر پندرہ لاکھ میٹرک ٹن گندم امپورٹ کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تین لاکھ تیس ہزار میٹرک ٹن گند م کا ٹینڈر کیا جا چکا ہے اور مزید ٹینڈر کیے جا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ معاہدے کے ذریعے بھی گندم درآمد کی جا رہی ہے۔
چینی کی دستیابی کے حوالے سے بتایا گیا کہ حکومتی فیصلے کے مطابق چینی کی درآمد جاری ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ چینی کی طلب و رسد میں کسی قسم کی کمی بیشی نہ ہو۔ چیف سیکرٹری پنجاب نے بتایا کہ شوگر ملوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ پندرہ نومبر تک کرشنگ کا آغاز کر دیں۔ قانون کے تحت کرشنگ کے عمل میں تاخیر کرنے پر پچاس لاکھ یومیہ جرمانہ کیا جائے گا۔ وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گندم اور چینی عوام کی بنیادی ضرورت ہیں لہذا ان کی دستیابی اور مناسب قیمت کو یقینی بنایا جائے۔
وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ ملک میں گندم کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے وافر دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ گندم کی درآمد میں پیش رفت پر انہیں مسلسل آگاہ رکھا جائے۔ اجلاس میں وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی سید فخر امام، وزیرِ صنعت محمد حماد اظہر، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، مشیر تجارت عبدالرزاق داو¿د، معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل، متعلقہ وزارتوں کے وفاقی سیکرٹری صاحبان اور صوبوں کے چیف سیکرٹری صاحبان کے ساتھ ساتھ سینئر افسران شریک تھے ۔