
ٹھٹھہ(ویب دیسک)کینجھر جھیل میں دوران پکنک ڈوبنے والے 13 افرادمیں سے 11افراد جاں بحق ہوگئے۔ جاں بحق ہونیوالوں میں خواتین
سمیت بچہ بھی شامل ہیں۔ سول اسپتال مکلی میں ایمرجنسی نافد، ایس ایس پی ٹھٹھہ اور ڈی سی ٹھٹھہ جھیل پر پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لیا۔
نرسری کراچی کے علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک ہی خاندان کے افراد ٹھٹھہ کی تاریخی جھیل کینجھرجھیل پر پکنک منانے پر آئے ہوئے تھے لیکن گہرے پانی میں کشتی الٹنے کی وجہ سے سوار 13 افراد ڈوب گئے ان میں ایک بچے سمیت 11 افراد ڈوب کرجاں بحق ہوگئے باقی 2 افراد کو زندہ بچالیا گیا ہے۔
بد نصیب خاندان کشتی میں سوار ہوکر نوری کی مزار کی زیارت کے لیے جاررہے تھے کشتی گنجائش سے زیادہ افراد کے بٹھانے کی وجہ سے اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی اور الٹ گئی۔ کشتی میں سوار افراد کی چیخ و پکار کے بعد مقامی لوگوں نے بڑی جدوجہد کے بعد تمام لوگوں کو باہر نکالا تاہم اس وقت تک ایک بچے سمیت 6 خواتین دم توڑ چکی تھی جبکہ دوخواتین نے اسپتال جاتے ہوئے راستے میں دم توڑا ہے اور آخری اطلاع تک مسلسل 4گھنٹوں سے باقی تین افراد کی تلاش جاری تھے جن کی ہلاکت کے بھی امکان ظاہر کیے گئے ہیں، ہلاک ہونیوالوں میں عروج ، سادیہ، روبینہ، شانزیہ، ایمان، امان، روزفا شامل ہے جبکہ باقی بچے افراد کو تشویش ناک حالت میں سول اسپتال مکلی لایا گیا۔
اطلاع ملنے کے بعد سول اسپتال مکلی میں ایمرجنسی نافد کردی گئی تھی، ایس ایس پی ٹھٹھہ ڈاکٹر عمران احمد اور ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ عثمان تنویر جھیل پر پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لیا اور حادثے کے شکار ہونیوالے افراد کو سول اسپتال مکلی پہنچایا۔














