
اسلام آباد (ویب ڈیسک،خبر ایجنسی) چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ عالمی اقتصادی فورم نے
بدعنوانی کے برے اثرات سے آگاہی کیلئے نیب کی آگاہی اور تدارک کی حکمت عملی کو اپنی 2019ء کی رپورٹ میں سراہا ہے، تمام متعلقہ فریقوں کی کوششوں سے بدعنوانی سے پاک پاکستان کے خواب کو عملی جامہ پہنایا جا سکتا ہے۔
نیب ہیڈ کوارٹرز میں نیب کی آگاہی و تدارک کی حکمت عملی کے جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی اقتصادی فورم کے عالمی مسابقتی انڈیکس رپورٹ 2019ء میں نیب کی بدعنوانی کے مضر اثرات کی روک تھام کیلئے آگاہی و تدارک کی حکمت عملی کی تعریف کی گئی ہے جو کہ پاکستان اور نیب کیلئے قابل فخر ہے۔
انہوں نے کہا کہ قومی احتساب بیورو نیب آرڈیننس کے سیکشن 33 سی کے تحت بدعنوانی کے خلاف آگاہی اور تدارک کی پالیسی اختیار کر سکتا ہے۔
جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ نیب کی بدعنوانی سے متعلق برے اثرات سے آگاہی اور تدارک کی حکمت عملی کامیاب رہی ہے، اس حکمت عملی کے تحت نیب مختلف سرکاری اداروں، غیر سرکاری تنظیموں، میڈیا، سوسائٹی اور معاشرہ کے دیگر طبقات سے مل کر کام کر رہا ہے تاکہ لوگوں بالخصوص نوجوانوں کو اوائل عمری میں بدعنوانی کے برے اثرات سے آگاہ کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ معاشرہ کے مختلف طبقوں سے مثبت ردعمل کے ساتھ ساتھ نیب کے میڈیا ونگ نے مفت پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے نیب کی آگاہی و تدارک کی کوششوں کو اجاگر کیا ہے جس کو معاشرہ کے تمام طبقوں نے سراہا ہے۔ جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ نیب کی موجودہ انتظامیہ نے بدعنوان عناصر، اشتہاریوں اور مفروروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کیلئے متعدد اقدامات کئے ہیں، گزشتہ 26 ماہ کے دوران نیب نے بدعنوان عناصر سے 153 ارب روپے وصول کرکے قومی خزانہ میں جمع کرائے ہیں جبکہ متعلقہ احتساب عدالتوں میں 630 بدعنوانی کے ریفرنس دائر کئے گئے ہیں۔














