
اسلام آباد (ویب ڈیسک،خبر ایجنسی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی ہندو توا
سوچ اور آر ایس ایس کے فلسفے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی شہریت ایکٹ میں ترمیم کے خلاف بھارت میں فسادات شروع ہو گئے ہیں اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں‘ امریکہ‘ کینیڈا‘ برطانیہ اور یواے ای سے بھی اس کے خلاف شدید ردعمل سامنے آیا ہے‘ پوری پارلیمنٹ کو متفق اور متحد ہوکر یہ پیغام دینا چاہیے کہ ہم مودی سرکار کے مظالم اور چیرہ دستیوں کے خلاف کل بھی یک زبان تھے آج بھی ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے۔
قومی اسمبلی میں پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ حالیہ بھارتی اقدامات کی وجہ سے دنیا بھر کے اہم ممالک نے اپنے شہریوں کو بھارت جانے سے روک دیا ہے‘ بابائے قوم حضرت قائداعظمؒ نے دہائیوں پہلے جو دو قومی نظریہ پیش کیا آج ہندوستان میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے قائد کا فلسفہ درست ثابت ہو رہا ہے۔امریکہ نے بھی کہا ہے کہ بھارتی شہریت ایکٹ میں ترمیم کا بل منظور کرانے والے بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کے خلاف تعزیری کارروائی کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت میں رونما ہونے والے واقعات کو ساری قوم نے ملاحظہ کیا ہے‘ بھارت میں نریندر مودی کی ہندو توا سوچ پر ردعمل سامنے آرہاہے۔یہ بات زبانی کلامی نہیں رہی بلکہ ہنگاموں کی صورت اختیار کر گئی۔ابھی تک چھ اموات ہوئی ہیں اور کئی معصوم افراد زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ پرامن بھارتی شہریوں پر تشدد کیا جارہا ہے۔
بھارت کے سٹیزن ایکٹ 2019ء کی بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی ہے اور بھارت کے شہریوں نے اسے مسترد کردیا ہے۔ بڑی تشویشناک صورتحال جنم لے رہی ہے۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس کو کیوں مسترد کیا جارہا ہے۔ اس احتجاج کی وجوہات یہ بتائی جارہی ہیں کہ یہ امتیازی نوعیت کا ہے۔ یہ ہندوستا ن کے آئین کی روح کے منافی ہے۔ اس سے ملک تقسیم ہوگا۔ بھارت کے شہری یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ بھارت کی طر




































