پی آئی سی واقعے کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا: بیرسٹر اعتزاز احسن


اسلام آباد(ویب ڈیسک،خبر ایجنسی )ممتاز ماہر قانون بیرسٹرچودھری اعتزاز احسن نے کہا کہ سانحہ ساہیوال کی

طرح پی آئی سی واقعے کا بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔
ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں پات چیت کرتے ہوئے بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ میں پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) واقعے کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ہماری قوم قانون کو مانتی ہے لیکن اس کے باوجود قانون پر عملدرآمد نہیں کرتی۔
انہوں نے کہا کہ گرفتار وکلا کو بڑے غلط انداز میں چہرے ڈھانپ کر عدالتوں میں پیش کیا گیا، ویسے بھی گرفتار وکلا کے نام تو اخبارات میں چھپ چکے ہیں تاہم اس حوالے سے پولیس کا موقف قدرے بہتر ہے۔انہوں نے کہا کہ ہر مقدمے میں ججز اور وکلا کا اختلاف رہا ہے لیکن ججز اب بہت زیادہ متکبر ہو گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بار ایسوسی ایشنز کے ہر سال انتخابات ہوتے ہیں اور انتخابات میں ہارنے والا جیتنے والے کو گلے لگا کر مبارکباد دیتا رہا ہے لیکن اب 2007 کی تحریک کے بعد یہاں بھی کھنچاو رہتا ہے۔ میرا خیال ہے بار کے انتخابات ایک سال کے بجائے تین سال بعد ہونے چاہئیں تاکہ یہاں بھی وکلا شدت پسندی کچھ کم ہو۔ ہرآ دمی چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑنا شروع کر دیتا ہے ایسے لگتا ہے ہرآدمی کمان میں کھنچا ہوا ہے۔
بیرسٹر اعتزاز احسن نے چیف جسٹس پاکستان کے معاملے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ہر چیف جسٹس اپنا ایک الگ ایجنڈا ہی لے کرآتا ہے۔انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ وکلا کے فیصلے پر پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ میڈیا پر عدالتی خبروں کی بریکنگ بھی ججز اور عدالتوں کو متکبر بنانے میں ایک وجہ بناہے۔ ادارے اپنے اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر کام کرتے ہیں۔