
اسلام آباد (ویب ڈیسک ،خبر ایجنسی)قومی اسمبلی کے زیر اہتمام 17 مارچ کو امریکہ اور افغانستان کے مابین امن
معاہدے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے قومی مکالمہ منعقدہوگا باقاعدہ اعلان کردیا گیا ہے،پارلیمان کی طرف سے افغان امن عمل کے لیے بھرپور تعاون کا اعادہ بھی کیا گیا ہے۔
اعلامیہ میں کیا گیا ہے کہ پاکستان کے حوالے سے امریکہ - افغان امن کے بعد پیدا ہونے والے چیلنجوں کا جائزہ لینے کے لئے 17 مارچ 2020 کو اسلام آباد میں قومی مکالمہ ہوگا مکالمے میں اراکین پارلیمنٹ ،تعلیمی ماہرین، تجزیہ کاروں، سول سوسائٹی کے نمائندوں کو مدعو کیا جائے گا۔
امریکہ اور افغانستان میں امن معاہدے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا اور اس سلسلے میں مستقبل کے لائحہ عمل کو وضع کرنے کے لیے تجاویزدی جائیں گی۔ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے باضابطہ طورپر قطر میں امریکی - افغان امن معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے ۔انہوں نے اسے افغانستان میں پائیدار امن و استحکام کا آغاز قرار دیا۔
اسپیکر نے کہا کہ یہ امن معاہدہ علاقائی ممالک میں رابطہ بڑھانے اور علاقائی خوشحالی میں بھی مثبت کردار ادا کرے گا۔ پاکستان ہمیشہ پرامن ذرائع سے تنازعات کے حل کا حامی رہا ہے۔ پائیدار امن و سلامتی کا حصول اور افغانستان اور خطے میں دیرپا ترقی اور خوشحالی کو یقینی بنانا پاکستان کے بہترین قومی مفاد میں ہے۔














