
اسلام آباد( ویب ڈیسک ،خبر ایجنسی )احتساب عدالت نے جعلی اکا ﺅنٹس کیس میں فریال تالپور کے
اکاﺅنٹس بحال کرنے کی درخواست پر محفوظ فیصلہ 20 مارچ کو سنایا جائے گا کیس کی سماعت احتساب عدالت اسلام آباد کورٹ روم نمبر دو کے جج اعظم خان نے کی۔ فریال تالپور کے وکیل فاروق ایچ نائیک اور نیب کی طرف سے پراسیکیوٹر عثمان مسعود مرزا نے کیس کی پیروی کی ۔نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ فریال تالپور کے اکانٹس بحال نہیں ہونا چاہیے کیونکہ فریال تالپور کی اکاﺅنٹس بحال کرنے کی درخواست میرٹ پر پوری نہیں اترتی لہذا مسترد کی جائے ۔
نیب نے فریال تالپور کی درخواست پر جواب احتساب عدالت میں جمع کرواتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ ہم نے مشکوک ٹرانزیکشن والے اکاﺅنٹس منجمند کئے ہیں گھر کے اخراجات چلانے میں مشکلات کی بات بلاجواز ہے ان کے اور اکاﺅنٹس موجود ہیں فریال تالپور زرداری گروپ آف کمپنی کی ڈائریکٹر اور دستخطی ہیں زرداری گروپ آف کمپنی کے اکاﺅنٹس میں جعلی اکاﺅنٹس سے ٹرانزیکشن موجود ہیں ۔
کیس ایف آئی اے سے نیب کے پاس آنے سے پہلے ہی ملزمان کے اکاﺅنٹس پر پابندی لگ چکی تھی۔
اس موقع پر وکیل صفائی نے اپنے دلائل میں عدالت کو بتایا کہ ہم زرداری گروپ کے نہیں، فریال تالپور کے ذاتی اکاﺅنٹس کھولنے کی درخواست کر رہے ہیں بچوں کی سکول فیس ادا کرنے میں بھی فریال تالپور کو مشکلات ہیں نیب اتنا ظلم نہ کرے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے پڑھ لیں نیب بتائے فریال تالپور کے ذاتی اکاونٹ میں کون سے پیسے آئے ہیں کیس کی سماعت 20 مارچ تک ملتوی کر دی گئی۔














