لینڈ سلائیڈنگ، برفانی تودے وچھتیں گرنے سے ہلاکتوں کی تعداد 100 ہوگئی

اسلام آباد(ویب ڈیسک )پاکستان اور آزادکشمیر میں سردی کی حالیہ لہر کے دوران برفباری،

بارشوں اور برفانی تودے گرنے سے مرنے والوں کی تعداد 100 تک پہنچ گئی ہے۔

حکام کے مطابق متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور شدید موسم کی وجہ سے ان کارروائیوں میں مشکلات درپیش ہیں۔قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے این ڈی ایم اے کے مطابق سب سے زیادہ 76 ہلاکتیں آزادکشمیر میں ہوئی ہیں جبکہ بلوچستان میں 20 اور خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں دو، دو افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔مختلف واقعات میں زخمی ہونے والے افراد کی تعداد 90 ہے جبکہ 213 رہائشی مکانات تباہ ہوئے ہیں۔

کشمیر کے سیکرٹری سٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی شاہد محی الدین کا کہنا ہے کہ کشمیر میں ہونے والی ہلاکتوں میں سے 73 وادی نیلم ہوئیں جبکہ سندھنوٹی، کوٹلی اور راولاکوٹ میں ایک ایک شخص جاں بحق ہوا۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ برفانی تودوں سے متاثرہ کچھ ایسے علاقے بھی ہیں جہاں بدھ کو امدادی کارروائیوں کا آغاز ہوا ہے اس لیے خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

حکام کے مطابق نیلم میں سب سے زیادہ جانی و مالی نقصان وادی سرگن میں ہوا ہے جہاں تین دیہات پر برفانی تودے گرے۔شاردہ کے تحصیلدار یاسر بخاری نے بتایا کہ وادی میں ان تودوں کی زد میں آ کر 39 سے زیادہ افراد جاں بحق ہوئے جبکہ دو تاحال لاپتہ ہیں۔ برفباری سے اپر نیلم ، لوات، ہلمت، تا بٹ، تیجیاں، ماناتھ، اور سرگن کے علاقوں میں لوگ زیادہ متاثر ہوئے۔ زیادہ نقصان سرگن کے علاقوں سرگن سیری، اور سرگن بگوال میں ہوا جہاں برفانی تودے گرنے سے لوگ ہلاک ہوئے۔ یہ علاقہ نوری ٹاپ اور ناران کے ساتھ لگتا ہے۔

سرگن کے علاقوں میں پاکستان فوج کے جوان مقامی افراد کے ہمراہ امدادی سرگرمیوں میں شریک ہیں۔ضلع نیلم کے ڈپٹی کمشنر شاہد محمود نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ نیلم کے متعدد دیہات شدید برفباری سے متاثر ہوئے ہیں ان کا زمینی رابطہ دارالحکومت مظفرآباد اور دیگر علاقوں سے بدستور منقطع ہے۔

شدید برفباری کے باعث نیلم ویلی روڈ، باغ سے چیکر اور لسڈانا روڈز، لیپا ویلی روڈ اور دیگر مرکزی شاہراہیں اور رابطہ سڑکیں متعدد مقامات پر ٹریفک کے لیے بند ہیں۔انھوں نے بتایا کہ برفانی تودے گرنے سے وادی نیلم کے ان علاقوں میں کم از کم 97 مکانات مکمل طور پر منہدم ہو گئے ہیں جبکہ 63 کے قریب مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔انھوں نے بتایا کہ اب تک موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق 52 گھرانے شدید متاثر ہوئے ہیں۔

این ڈی ایم اے کے مطابق صوبہ بلوچستان میں مسلسل برفباری اور بارش کے باعث چھتیں گرنے اور دیگر واقعات میں اب تک 20 افراد جاںبحق ہو چکے ہیں جبکہ 23 زخمی ہیں۔ جاں بحق ہونے والے 20 افراد میں 12 خواتین اور سات بچے بھی شامل ہیں۔

وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں طویل عرصے بعد ایک بڑے علاقے میں برفباری ہوئی ہے۔ بلوچستان کے جن اضلاع کے مختلف علاقوں میں برفباری ہوئی تھی ان میں قلات، مستونگ، کوئٹہ، قلعہ سیف اللہ، زیارت، ہرنائی پشین اور قلعہ عبد اللہ شامل ہیں۔ان سات اضلاع میں شدید برفباری کی وجہ سے سنو ایمرجنسی کا اعلان بھی کردیا گیا ہے۔ انہی اضلاع کے مختلف علاقوں میں شاہراہیں اور دیگر رابطہ سڑکیں بند ہیں۔بلوچستان میں جن علاقوں میں سب سے زیادہ برفباری ہوئی ہے ان میں کان مہترزئی کا علاقہ بھی شامل ہے۔