اپوزیشن کی غیر موجودگی میں2آرڈ یننس میں توسیع کی قراردادیں منظور

0

اسلام آباد(ویب دیسک ،خبر ایجنسی)قومی اسمبلی میں حکومت نے اپوزیشن کی غیر موجودگی

میں سی پیک اتھارٹی اورٹیکس قوانین ترمیمی آرڈیننس میں 3ماہ کی توسیع کی قراردادیں منظور کروا لیں جبکہ ایوان زیریںمیں قومی احتساب بیورو (نیب)ترمیمی آرڈیننس، نفاذ حقوق جائیداد برائے خواتین اور ٹیکس قوانین ترمیمی آرڈیننس پیش کر دئےے گئے،فیڈرل پبلک سروس کمیشن قواعد کی توثیق کابل 2019 بھی منظور کر لیا۔

اپوزیشن نے 2آرڈیننس میں توسیع اور3آرڈیننس پیش کرنے کیخلاف آحتجاجاً واک آﺅٹ کیا اوروفاقی وزراءکی جانب سے مذاکرات کے باوجود ایوان میں آنے سے انکار کیا اورآرڈیننس کی توسیع اور پیش کرنے کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔پیپلزپارٹی کے راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ ہمارا بنیادی کام ملک کیلئے قانون سازی کرنا ہے،ہم یہاں آرڈیننس پاس کرنے نہیں آتے،حکومت نے آرڈیننس کی مدت میں توسیع کیلئے قبل ازوقت اجلاس بلایا،حکومت آرڈیننس میں توسیع کی بجائے ان کے بل پیش کرے نیب قانون میں ترمیم پر حکومت اور اپوزیشن میں بات چیت جاری ہے مگر پھر وہی نیب آرڈیننس پیش کیا جا رہا ہے،ہم اسطرح کی قانون سازی کا حصہ نہیں بنیں گے ۔

جمعرات کو قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت ہوا۔اجلاس کے آغاز پر ہی پی ٹی ایم کے ارکان محسن داوڑ اور علی وزیر نے بات کرنے کی اجازت مانگی مگر سپیکر نے انہیں بولنے کی اجازت نہ دی،اس موقع پر نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے رکن اور سابق وزیر راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ یہ ایوان قانون سازی کیلئے ہے،ہمارا بنیادی کام ملک کیلئے قانون سازی کرنا ہے،گزشتہ بزنس ایڈوائزری کمیٹی میں طے پایا تھا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس 10 فروری کو بلایا جائے گا۔

تمام ارکان قومی اسمبلی کیلینڈر کے تحت اپنا شیڈول بناتے ہیں مگر ایک بار پھر حکومت نے شیڈول سے ہٹ کر اجلاس بلا لیا،مجھے آج کا ایجنڈا دیکھ کر پتا چلا کہ حکومت نے اتنی جلدی اجلاس کیوں بلایا،حکومت نے 2 آرڈیننس کی مدت میں توسیع کیلئے اجلاس بلایا ،ہم یہاں آرڈیننس پاس کرنے نہیں آتے،آرڈیننس کے اجرا کے بعد 120 دن حکومت کیا سو رہی تھی اور آرڈیننس ایوان میں پیش نہ کئے ،اب جب ان آرڈیننس کی مدت ختم ہو رہی ہے تو حکومت کو یاد آیا،حکومت آرڈیننس میں توسیع کی بجائے ان کے بل پیش کرے۔