
کراچی ( رپورٹ :زین صدیقی ،عکاسی ،محمد سعاد) ریاست کو خواتین کے حقوق دینے ہوں گے ۔اسلام
اور قانون میں بتائے گئے حقوق مختلف ہیں ۔ہمیں قانونی حقو ق بھی چاہئیں ۔عورت کو برابری کے حقو ق دینے ہوں گے ۔یہ بات اتوار کو” عالمی یوم خواتین “کے پرفیریئر ہال میں خواتین کے حقو ق کی این جی اوز کی جانب سے منعقدہ ” خواتین مارچ “ کے موقع پر” رنگ نو ڈاٹ کام“ سے خصوصی گفتگو کرتے کیا ۔اس موقع پر مارچ میں شریک خاتون نیہا نے کہا کہ اسلام اور قانون میں حقوق مختلف ہیں ،ہمیں قانونی طور پر وہ حقو ق حاصل نہیں جو ہونے چاہئیں ۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ خواتین کے حقوق منوانے کا بہترین پلیٹ فارم ہے ۔،پارلیمنٹ سے خواتین کے حقوق کے قوانین منظور ہونے چاہئیں ۔سائرہ ملکانی کا کہنا تھا کہ ہم عورت پر تشدد کے خلاف ہیں ،ہماری سڑکوں اور کام کی جگہ پر خواتین کم ہیں ،ملازمتوں میں بھی ان کو کم حصہ دیا جاتا ہے۔ان کا جنسی استحصال ہورہا ہے ،ہم چاہتے ہیں یہ استحصال رکے ،خواتین مضبو ط ہو ں اورانہیں برابری کی سطح پر حقو ق حاصل ہوں ۔














