مقبوضہ جموں وکشمیر : بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں 2 کشمیری نوجوان شہید

سرینگر(ویب ڈیسک )غیرقانونی طورپربھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میںبھارتی فوجیوں

نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی کے دوران آج سرینگر کے علاقے کھنموہ میں دو اورکشمیری نوجوانوںکو شہید کردیا ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق نوجوانوں کو بھارتی فوج ، پولیس اور سینٹرل ریزروپولیس فورس کے اہلکاروں کی طرف سے علاقے میں مشترکہ طورپر شروع کی گئی تلاشی اور محاصرے کی ایک کارروائی کے دوران شہید کیاگیا۔ جیسے ہی نوجوانوں کی شہادت کی خبر علاقے میں پھیلی سینکڑوںمرد ،خواتین اورنوجوانوںنے پابندیوں کوخاطر میں نہ لاتے ہوئے گھروں سے نکل کر زبردست بھارت مخالف اور آزادی کے حق میں مظاہرے کئے۔ مظاہرین کھنموہ میں اس گھر کے باہر جمع ہوگئے، جہاں فوجیوں نے نوجوانوںکو شہید کیاتھااورانکے بہیمانہ قتل کے خلاف فلک شگاف نعرے بلند کئے ۔ انہوں نے کہاکہ شہید نوجوان بے گناہ تھے اور انہیں جعلی مقابلے میں مارا گیا ۔ کل جماعتی حریت کانفرنس نے حریت پسند کشمیری عوام سے 21 مئی جمعہ کو معروف آزادی پسند رہنماﺅں میرواعظ مولوی محمدفاروق،خواجہ عبدالغنی لون اور شہدائے حول کا یوم شہادت شایان شان طورپر منانے کیلئے مکمل ہڑتال کی اپیل کی ہے ۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان کہاہے کہ اس دن مقبوضہ علاقے میں جاری کشمیریوں کی نسل کشی کے خلاف احتجاجی ریلیاں نکالی جائیں گی۔ نامعلوم مسلح افراد نے میر واعظ مولوی محمد فاروق کو21مئی 1990کو سرینگر میں انکی رہائش پر گولی مارکر شہید کردیا تھا ۔اسی دن بھارتی فوجیوں نے سرینگر کے علاقے حول میں ان کے جنازے پر اندھا دھند فائرنگ کرکے 70 سوگواروں کو شہید کردیا تھا۔
سینئر حریت رہنما پروفیسر عبدالغنی بٹ نے ایک بیان میں کہاہے کہ کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب تنازعات کے حل کا وقت آگیا ہے تاکہ محاذ آرائی اور دنیا بھر میں جنگ جیسی صورتحال سے بچا جاسکے ۔