
مغربی سائنسدانوں نے زمین سے اربوں کھربوں میل کی مسافت پر موجود کائنات کے سب سے بڑے ’بلیک ہول‘ کی دریافت کا دعویٰ کیا ہے۔
10اپریل کو پہلی بار سائنسدانوں نے ایک ایسی تصویر جاری کی جس کے بارے میں بتایاگیا ہے کہ یہ ایک فلکیاتی جسم (بلیک ہول) ہے۔ یہ اب تک جاری کی جانے والی کسی بھی بلیک ہول کی پہلی تصویر ہے۔
یہ تصویر دنیا کے مختلف حصوں میں نصب آٹھ ریڈیائی دوربینوں سے حاصل شدہ معلومات کو جوڑ کر تیار کی گئی ہے۔بتایا گیا ہے کہ یہ ایک بہت بڑا بلیک ہول ہے جس کی لمبائی 400 ارب کلومیٹر ہے۔
اس کا حجم ہمارے سیارے یعنی کرہ ارض سے 30لاکھ گنا بڑا ہے۔سائنسدانوں نے اسے ایک فلکیاتی دیو یا مونسٹر کا نام دیا ہے۔یہ بلیک ہول ہماری دنیا سے تقریباً 50 کروڑ کھرب کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔
واضح رہے کہ کائنات میں بلیک ہولز کی موجودگی کی تھیوری معروف سائنسدان آئن سٹائن نے ایک صدی سے بھی زائد عرصہ قبل پیش کی تھی۔ بلیک ہول بڑے بڑے ستاروں سمیت ہرچیز کو اپنے اندر کھینچ لیتے ہیں۔














