
سرینگر (ویب ڈیسک ) بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر کی مسلم شناخت کو ختم کرنے کیلئے مسلمان ناموں
والے مقامات کے نام تبدیل کرکے ہندو نام رکھنے کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی حکومت شیخ عبداللہ جیسے بھارت نواز مسلمان سیاستدان کے نام پر سرینگر میں قائم کرکٹ ا سٹیڈیم کے نام کو بھی برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں اور اس کا نام تبدیل کرکے سردار ولبھ بائی پٹیل کرکٹ اسٹیڈیم رکھا جارہا ہے۔ سردار پٹیل بھارت کے پہلے نائب وزیر اعظم تھے۔
باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ نام تبدیل کرنے کی تیاریاں جاری ہیں اور اس سلسلے میں باضابطہ اعلان 15دسمبر کو پٹیل کی برسی پر کیا جائے گا۔ نام کی تختی اوربورڈ تیار کیا جارہا ہے اور آئندہ دنوں میں باقی کارروائی بھی کی جائے گی۔
سرینگر شہرکے مرکز لال چوک کے ارد گرد سڑکوں اور گلیوں کے نام بھی بھارت کی نامی گرامی شخصیات پر رکھے جائیں گے۔ اس سے پہلے رواں ہفتے پرےسار بھارتی بورڈ کی منظوری سے ریڈیو کشمیر کا نام تبدیل کرکے آل انڈیا ریڈیو رکھا گیا ہے۔
بھارت کے وزیر ٹرانسپورٹ نتن گڑکرے نے اکتوبرمیں کہاتھا کہ کشمیر کو جموںسے ملانے والی سب سے بڑی چنانی ناشری ٹنل کا نام بھارتیہ جن سنگھ کے بانی شیاما پرساد مکھرجی کے نام پر رکھا جائے گا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ مودی حکومت اپنے فرقہ وارانہ ایجنڈے اکھنڈ بھارت پرکام کررہی ہے۔
بھارت نے کشمیریوں کو اعتما دمیں لئے بغیر 5اگست کو ایک صدارتی آرڈر کے ذریعے جموںوکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے 31اکتوبرکو ریاست کو دو یونین ٹیریٹوریز میں تقسیم کیا۔














