مقدمات ختم کرانے کی مودی حکومت کی پیشکش مسترد کردی، ڈاکٹر ذاکر نائیک

کوالالمپور( ویب ڈیسک ،خبر ایجنسی) بھارت کے معروف اسلامی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک نے کہا

ہے کہ مودی حکومت نے کشمیر کے حوالے سے اس کے اقدامات کی حمایت کے بدلے مقدمات ختم کرانے کی پیش کش مسترد کی ہے۔

کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سوشل میڈیا پرگردش کرنے والی ایک وڈیو میں ڈاکٹر ذاکر نائیک نے کہا کہ انہوں نے اس پیشکش کو مسترد کردیا جس میں انہیں کشمیر کے بارے میں بھارتی حکومت کے موقف کی حمایت کے بدلے وطن واپسی کی پیش کش کی گئی تھی۔

 انہوں نے کہاکہ سرکاری عہدیداروں نے وزیر اعظم نریندرمودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کی طرف سے ان سے رابطہ کیا اورانہیں بتایا کہ بھارت مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے ان کے رابطوں کو استعمال کرنا چاہتا ہے۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک جو بھارت میں تفتیشی ایجنسیوں کوجھوٹے مقدمات میں مطلوب ہیں کا کہنا ہے کہ متعدد دیگر ممتاز مسلم رہنماو ¿ں کو یا تو دھمکی دی گئی یا اس دوران بلیک میل کیا گیا۔

انہوں نے کہاکہ چند ماہ قبل بھارتی حکومت کے عہدیداروں نے مجھ سے حکومت کے نمائندے کی حیثیت سے ملاقات کے لئے رابطہ کیا اورجب وہ ستمبر 2019 کے چوتھے ہفتے میں ملائشیا کے علاقے پتریا میں مجھ سے ملنے آئے تو انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ سے ملاقات کے بعد سیدھے آپ سے ملنے آ یاہوں۔

ڈاکٹر نائیک نے کہا کہ ا نہوں نے مجھے بتایا کہ وہ وزیر اعظم مودی اور امیت شاہ کی براہ راست ہدایت پر مجھ سے ملنے آئے ہیں تاکہ وہ میری بھارت واپسی کے محفوظ راستے پر کام کریں کیونکہ وہ مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے میرے رابطوں کو استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

 ویڈیو میںذاکر نائیک نے کہا کہ اس پیش کش کی وجہ سے میںحیرت زدہ رہ گیا اور میں سوچ رہا تھا کہ ایک ایسے وزیر اعظم سے یہ کیسے ممکن ہے جنہوں نے مئی 2019 ءمیں اپنی انتخابی تقریر میں دو منٹ سے بھی کم وقت میں نو بار میرا نام لیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس ملاقات میں جو چند گھنٹوں تک جاری رہی ، ان سے 05 اگست کو کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے اور اسے دو مرکزی علاقوں میں تقسیم کرنے کے بی جے پی حکومت کے فیصلے کی حمایت کرنے کے لئے کہا گیا۔