انڈین یونین مسلم لیگ نے شہریت کے متنازع بھارتی قانون سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا

نئی دہلی(ویب ڈیسک ،خبر ایجنسی ) بھارت میں انڈین یونین مسلم لیگ نے شہریت کے متنازع

بھارتی قانون (سی اے اے) کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔ بھارتی خبررساں ادارے کے مطابق انڈین یونین مسلم لیگ نے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ پاپولیشن رجسٹر پراجیکٹ پر حکم امتنازعی جاری کیا جائے۔

 درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ بھارتی حکومت کو این آر سی پر عملدرآمد سے روکا جائے۔ بھارتی اخبار ”ہندوستان ٹائمز“ کی رپورٹ کے مطابق انڈین یونین مسلم لیگ پہلی سیاسی جماعت ہے جس نے شہریت کے متنازعہ قانون کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے اور سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ شہریت ترمیمی ایکٹ نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز ”این آر سی“ اور نیشنل پاپولیشن رجسٹر ”این پی آر“ پر عملدرآمد سے

 حکومت کو روکا جائے۔

سپریم کورٹ میں دائر کی جانے والی دونوں درخواستوں میں ”آئی یو ایم ایل“ نے استدعا کی ہے کہ حکومت سے ملک بھر میں این آر سی کے نفاذ اور اس کے علاوہ این آر سی اور آبادی کے رجسٹر میں کیا مماثلت ہے، اس حوالے بھی حکومت سے وضاحت طلب کی جائے۔

بھارتی حکومت نے ملک بھر میں احتجاج کے بعد این آر سی اور این پی آر کے بارے میں نئی حکمت عملی اختیار کی ہے کہ 2015ءسے قبل پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش سے بھارت منتقل ہونے والے غیر مسلم شہریوں کی رجسٹریشن کی غرض سے یہ قانون متعارف کرایا گیا ہے۔ انڈین یونین مسلم لیگ پہلی سیاسی جماعت ہے جس نے حکومت کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔