مقبوضہ کشمیر، ”وی پی این“ استعمال کرنے والوں کےخلاف کریک ڈاﺅن

سرینگر (ویب ڈیسک ) بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں فیس بک، وٹس ایپ ، ٹویٹر اور دیگر سماجی رابطوں کی سائٹوں تک رسائی کیلئے

ورچول پرائیویٹ نیٹ ورک(وی پی این) استعمال کرنے والوں کے خلاف ایک بڑا کریک ڈاﺅن شروع کر دیا ہے۔

کشمیر میڈیاسروس کے مطابق بھارت نے اگرچہ مقبوضہ علاقے میں انٹرنیٹ سروس محدود پیمانے پر بحال کر دی ہے لیکن فیس بک، وٹس ایپ، انسٹا گرام اوردیگر سماجی رابطوں کی سائٹوں پر اب بھی پابندی عائد ہے تاہم کشمیر ی وی پی این اور پراکسی سرورز کے ذریعے مذکورہ سائٹوں تک رسائی حاصل کر کے غیر قانونی بھارتی قبضے اور قابض بھارتی فورسز کے مظالم کے خلاف اپنی آواز بلند کر رہے ہیں۔ خبر رساں ادارے ”رائٹرز“ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت نے گزشتہ برس پانچ اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد سینکڑوں کشمیریوں کو حراست میں لیا اور مواصلات پر پابندیاں عائد کر دیں۔خبر رساں ادارے نے لکھا کہ پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے سوشل میڈیا کا استعمال کرنے والے 100سے زائد کشمیریوں کی شناخت کر لی ہے اور مزید افراد کی تلاش کا کام جاری ہے۔

 پولیس ترجمان نے رائٹرز کو بتایا کہ پراکسی سرورز کے ذریعے سماجی رابطوں کی سائٹوں تک رسائی کرنے والے کئی افراد کے خلاف مقدمات بھی درج کر لیے گئے ہیں۔سرینگر کے ایک رہائشی 37سالہ تاجر عادل الطاف نے رائٹرز کو بتایا کہ انہوں نے اپنے فون پر ایک درجن وی پی این ایپس ڈاﺅن لوڈ کر رکھی ہیں اور اگر بھارتی انتظامیہ ان میں سے ایک کو بلاک کر ے گی تو وہ دوسرا استعمال کر لیں گے۔ سلیمہ جان نامی ایک خانون نے بتایا کہ انہوں نے چندی گڑھ کے ایک کالج میں زیر تعلیم اپنے بیٹے کے ساتھ ویڈیو چیٹ کے لیے پراکسی سرور استعمال کیا ۔