بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں حالات قابو سے باہر

نئی دہلی،اسلام آباد(ویب ڈیسک،خبرایجنسی)بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں حالات قابو سے باہر ہونے لگے، چار علاقوں میں کرفیو

لگانے کے باوجود بی جے پی کے دہشتگرد مسلمانوں پر حملے کے ساتھ مساجد پر بھی حملہ آور ہونے لگے، جلاو گھیرا وکے واقعات کے بعد حالات میں کشیدگی بڑھنے کے بعد ہلاکتیں 11 ہو گئی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی)کے دہشت گرد مسلمانوں کے ساتھ ساتھ مساجد پر بھی حملے کرنے لگے ہیں، دہلی میں بلوائیوں نے مسجد کے مینار پر چڑھ کر توڑ پھوڑ کی، مینار سے لاڈ سپیکر نیچے پھینک کر اپنے جھنڈے لہرا دیئے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ہندو بلوائیوں کا جتھہ اشوک نگر کی جامع مسجد کے مینار پر چڑھ دوڑا۔کئی افراد نے مینار پر چڑھ کر ہلال کے نشان کو اکھاڑنے کوشش کی جبکہ ساتھ ہی مسجد کے لاوڈ اسپیکر اتار کر زمین پر پھینک دیے۔اس دوران انتہا پسندوں نے مسجد پر بھارتی ترنگا اور ہندوں کی مذہبی علامت سمجھے جانے والا پرچم لہرایا جبکہ اس دوران مسجد میں توڑ پھوڑ بھی کی گئی۔دوسری جانب سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد نے مسجد پر حملے کی مذمت کی ہے اور اسے بابری مسجد جیسا سانحہ قرار دیا ہے۔دوسری طرف دہلی میں تیسرے روز بھی پرتشدد واقعات جاری ہیں اور بطور خاص شمال مشرقی دہلی کے علاقے گوکولپوری، موجپور اور برہمپوری میں منگل کے روز جلا وگھیرا وکے واقعات ہوئے۔شہریت کے متنازع قانون کے مخالفین اور حامیوں کے درمیان شروع ہونے والی جھڑپ نے مذہبی رنگ اختیار کر لیا اور شمال مشرقی دہلی کے مختلف حصوں میں پھیل گیا جس میں پتھرا وکے علاوہ آتشزدگی کے بہت سارے واقعات دیکھے گئے۔

بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ دو روز کے دوران اب تک پولیس کانسٹیبل سمیت 11 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 50 پولیس اہلکاروں سمیت 186 کے قریب افراد زخمی ہیں اور شہر کے مختلف علاقوں میں زیر علاج ہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بلوائیوں نے متاثرہ علاقوں میں لوٹ مار بھی کی، نور الہی کے علاقے سے مسلمان نقل مکانی پر مجبور ہو گئے، بی جے پی رہنما، پولیس کو وارننگ دے چکے تھے کہ ٹرمپ کے آنے پر احتجاج ہوا تو سڑکیں پولیس نہیں، ان کے کارکن خالی کروائیں گے۔ پولیس اہلکار بھی ہندووں کو پتھراو کیلئے اکساتے رہے۔وزیر داخلہ امت شاہ نے دہلی میں امن و امان قائم کرنے کے لیے ایک میٹنگ بلائی جس میں وزیر اعلی اروند کیجریوال اور دہلی کے لفٹیننٹ گورنر سمیت متعدد سیاسی پارٹیوں کے رہنماں نے شرکت کی۔میٹنگ کے بعد اروند کیجریوال کا کہنا تھا کہ پارٹی کی سیاست سے اوپر اٹھ کر امن و امان بحال کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے۔

شمال مشرقی دہلی کے رہائشی اور سماجی کارکن اویس سلطان خان اور جنید کا کہنا تھا کہ سیلم پور، مصطفی آباد، بابرپور، جعفرآباد، شاستری پارک، نور الہی، کردمپوری، کبیر نگر، موجپور اور شمال مشرقی دہلی کے مختلف علاقوں میں حالات کشیدہ ہیں۔ موج پور، جعفرآباد، چاند باغ، کراول نگر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ دائیں بازو کے مسلح غنڈے کھلے عام گھوم رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ رات تین بجے برہمپوری کی اکھاڑے والی گلی میں فائرنگ کی آواز سنی گئی اور دکانیں لوٹی گئیں۔ جب تک کہ وہاں پولیس تعینات نہیں کی جاتی ہے اور کرفیو نافذ نہیں کیا جاتا ہے حالات کو قابو میں کرنا بہت مشکل ہوگا۔بھارتی میڈیا کے مطابق مسلم مخالف فسادات کے بعد بھارت بھر میں مسلمان آبادی خوفزدہ ہیں، درگارپوری چوک پر دکانیں لوٹ لی گئیں عوام پر تشدد کیاگیا، خاتون صحافی سمیت تین بھارتی صحافیوں پر انتہا پسندوں کے ہجوم نے تشدد کیا۔مسلم رکن اسمبلی اسد الدین اویسی کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کے خلاف جاری فسادات کی ذمہ دار بی جے پی سرکار ہے، ہندوتوا کے انتہا پسندوں نے مسجد کی بے حرمتی کرکے بابری مسجد کی شہادت کی یاد تازہ کردی۔پولیس کی جانب سے جاری حکمنامے میں ہتھیار یا کسی بھی آتشی اشیا کے استعمال پر پابندی لگادی ہے جبکہ سوشل میڈیا پر بھی مذہبی منافرت پھیلانے، حساس اور اشتعال انگیز مواد شیئر کرنے پر بھی پابندی عائد کی ہے۔پولیس کے حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی بھی شخص مذکورہ احکامات کی خلاف ورزی کرتا پایا گیا تو سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔