
واشنگٹن (ویب ڈیسک،خبر ایجنسی) امریکا میں کورونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن کے دوران شاپنگ سٹورز
اور دوسرے کاروباری ادارے بند کرنے کے نتیجے میں مارچ کے آخری 2 ہفتوں کے دوران 10 ملین (1 کروڑ) افراد روزگار سے محروم ہوئے جن میں سے 6.65 ملین نے صرف آخری ہفتے کے دوران خود کو بے روزگار رجسٹر کرایا، ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ ان اعداد و شمار کے تناظر میں وباء سے ملکی معیشت کو ہونے والے اصل نقصانات کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔
محکمہ محنت کی رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس کے دنیا کے دوسرے حصوں کی طرح امریکی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں، اسے پھیلنے سے روکنے کے لیے جاری لاک ڈاؤن کے دوران ہرطرح کے کاروباری اداروں کی بندش سے دیگر نقصانات کی ساتھ ساتھ شہری بھی بڑی تعداد میں بے روزگار ہورہے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مارچ کے دوران لوگوں کی بڑی تعداد روزگار سے محروم ہوئی، مہینے کے آخری 15 دنوں کے دوران 1 کروڑ لوگ روزگار سے محروم ہوئے جن میں سے 6.65 ملین (66 لاکھ 50 ہزار)نے صرف مارچ کے آخری ہفتے میں خود کو بے روزگار رجسٹر کرایا جو تیسرے ہفتے کے مقابلے میں دوگنا ہیں، تیسرے ہفتے کے دوران 3.3 ملین (33 لاکھ) افراد نے خود کو بے روزگار رجسٹر کرایا تھا۔یہ اعداد و شمار ماہرین اقتصادیات کے زیادہ سے زیادہ پیشگی اندازوں سے بھی بڑھ کر ہیں، اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ امریکی معیشت کو کورونا وائرس کے نتیجے میں کس قدر نقصان کا سامنا ہے۔بعض ماہرین اقتصادیات کا خیال ہے کہ کورونا وباء کے باعث ملک میں بیروزگاری کی شرح دوسری جنگ عظیم کے بعد اب تک کی بلند ترین سطح پر جاسکتی ہے جس سے کساد بازاری کا بھی سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔














