
لندن (نمایندہ خصوصی) انگلینڈ اور ویلز میں ہونے والی کرکٹ کی 12عالمی جنگ حتمی مقابلے میں انگلینڈ کی فتح کے ساتھ
اختتام کو پہنچ گئی۔لارڈز کے تاریخی میدان پر کھیلے گئے آئی سی سی ورلڈ کپ2019 کے ہیجان خیز فائنل میں انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کا میچ انتہائی سنسنی خیز مقابلے کے بعد ’’سپر اوور‘‘ میں بھی برابر رہا،تاہم زیادہ باؤنڈریز کی بنیاد پر میزبان انگلش ٹیم کو عالمی چیمپیئن قرار دے دیا گیا۔
میچ میں نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔انگلش باؤلرز کی نپی تلی باؤلنگ کے سبب نیوزی لینڈ کے بلے باز تیزی سے رنز کرنے میں ناکام رہے اور نیوزی لینڈ کی ٹیم 8 وکٹوں کے نقصان پر 241رنز ہی بنا سکی اور یوں انگلینڈ کو ورلڈ چیمپیئن بننے کے لیے 242رنز کا ہدف ملا۔
جواب میں بولٹ،ہنری اور فرگوسن جیسے شاندار بولرز پر مشتمل کیوی پیس اٹیک کے سامنے انگلینڈ کے بلے باز بھی کھل کر کھیلنے میں کامیاب نہ ہوسکے اور وقفے وقفے سے آؤٹ ہوتے رہے۔ انگلش بلے بازبین اسٹوکس دیوار بن کر کھڑے رہے اور98گیندوں پر 84رنز بناکر اپنی ٹیم کو نیوزی لینڈ کے برابر241اسکور کرنے کے قابل بناتے ہوئے میچ کو سپر اوورتک پہنچادیا۔
سپراوور میں انگلینڈ کی طرف سے بین اسٹوکس اور جوز بٹلربیٹنگ کیلئے آئے اور کیوی بولنگ کے سرخیل ٹرینٹ بولٹ کا سامنا کرتے ہوئے6گیندوں پر15رنز بناڈالے۔
جواب میں نیوزی لینڈ کی طرف سے لیام نیشم اورمارٹن گپٹل میدان میں اترے اورسیاہ فام انگلش بولر جوفرا آرچر کا سامنا کرتے ہوئے6گیندوں پر 15رنز ہی بنائے۔یوں میچ ایک بارپھر ٹائی ہوگیا۔ تاہم انگلینڈ کو زیادہ باؤنڈریز لگانے کی وجہ سے میچ کا فاتح قراردے دیا گیا۔
بین سٹوکس 98 گیندوں 84 رنز کی شاندار اننگز کھیلنے پر میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔انھوں نے اپنی اننگز میں پانچ چوکے اور دو چھکے لگائے۔ جبکہ نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن 82 کی اوسط سے مجموعی طورپر 578 رنز بنانے پر ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔














