حکومت عالمی معاہدوں پربریفنگ کیلئے تیار ہے،مشیر خزانہ

اسلام آباد(ویب ڈیسک ) کابینہ نے کالے دھن کو سفید کرنے کی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کی مظوری دیے دی ہے،حکومت نے آئی ایم ایف

سمیت تمام بین الاقوامی معاہدوں کو پارلیمانی کمیٹی میں لانے کی بھی  پیشکش کردی ہے

ان خیالات کا اظہار مشیرخزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ کابینہ اجلاس کےبعد پریس کانفرنس سے خطاب میں کیا ، وزیر مملکت برائےخزانہ حماد اظہر، معاون خصوصی اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی ان کے ہمراہ تھے۔

مشیرخزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف سے معاہدے کیلئے صوبوں کو اعتمادمیں لیا گیا، چاروں صوبائی وزرائے خزانہ کی آئی ایم ایف ٹیم کے ساتھ ملاقات کامیاب رہی،، حکومت بین الاقوامی معاہدات پربریفنگ کیلئے تیار ہے، مالیاتی نظم و ضبط ضروری ہے،، آئی سی یو سے وارڈ میں منتقل ہونے کے بعد ڈاکٹری نسخے پر عملدرآمد نہ کرنے کی وجہ سے بار بار آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑ رہا ہے۔

مشیرخزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ نےکہا کہ کابینہ کے اجلاس میں ایمنسٹی اسکیم سمیت18نکاتی ایجنڈا زیر غور آیا اور 18صفحات پر مشتمل اس اسکیم کوتفصیلی بحث کے بعد 3صفحات تک محدود کردیا گیا۔یمنسٹی اسکیم کا پہلا مرحلہ 30 جون 2019 تک ہو گا۔پہلا مرحلہ 30 جون، دوسرا 30 ستمبر، تیسرا 31 دسمبر تک جاری رہے گا۔پہلا مرحلہ، اثاثے، آمدن 5 فیصد ٹیکس ادائیگی پر قانونی بنائے جا سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ دستاویزمیں چھپائی گئی آمدن، اثاثےاور ریئل اسٹیٹ ظاہر کیےجاسکیں گے،۔دوسرا مرحلہ اثاثے، آمدن 10 فیصد ٹیکس ادائیگی پر قانونی بنائے جا سکیں گے۔تیسرا مرحلے میں  اثاثے، آمدن 20 فیصد ٹیکس ادائیگی پر قانونی بنائے جا سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ غیر دستاویزی معیشت کو دستاویزی بنایا جائے گا،اسکیم کے نقائص کو دور کرنے کیلئے وزیر قانون اور اٹارنی جنرل سمیت ماہرین پر مشتمل کمیٹی بنا دی گئی ہے۔ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم 3 مراحل پر مشتمل ہو گی۔

۔مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ جو لوگ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے پر تنقید کررہے ہیں وہ سب وہاں سے قرضہ لے چکے ہیں۔ تین بڑے فیصلے کئے ہیں تین سو یونٹ بجلی استعمال کرنیوالوں کےلئے بجلی کی قیمتیں نہیں بڑھیں گی ۔