
اسلام آباد (ویب ڈیسک )مشیرخزانہ ڈاکٹرحفیظ شیخ نےکہاہے کہ مشکل فیصلے کرنے ہیں ،جو کیےجائیں گے۔آئی ایم ایف سے معاہدے
کی منظوری تک شرائط منظرعام پر نہیں لائیں گے۔
اسلام آباد میں وفاقی وزراء عمر ایوب خان ،خسروبختیار معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتےہوئے انہوں نے کہاکہ جب ہماری حکومت آئی تو ملک کے حالات خراب تھے پاکستان کوکل قرض 31ہزار ارب تھا ۔بیرونی قرض 100ارب ڈالر تک پہنچ چکا تھا، 18 ارب سے خرانہ کم ہوکر 10ارب ہوگیا تھا ،برآمدات کم ہوئیں تجارتی خسارہ 20ارب تھا 2.3کھرب آمدن اور خرچ میں فرق تھا۔
انہوں نے کہا کہ خواہ مخواہ آئی ایم ایف پر چڑھائی نہ کی جائےکیا ہم نے خود یہ کام نہیں کرنے تھے،پاکستان کے مفاد میں سب اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھ دیں اور آگے بڑھنے دیں۔
انہوں نےکہا کہ گردشی قرض میں 38ارب ہر ماہ اضافہ ہورہاتھا،ڈالر کی قمیت اور مہنگائی برھ رہی تھی، گروتھ 5فیصد تھی فوری طور پر قدامات کے لیے ایک منصوبہ بندی کی گئی ۔9.2ارب ڈالر دوست ممالک نے دیے شرح سود کو بڑھایاکہ مہنگائی کوروکاجائے اور درآمدات کو کم کیاگیا ان پر درآمدی ڈیوٹی لگائی گئی جس سے 4ارب کم ہوگئیں۔
مشیر خزانہ نےکہاکہ ایف بھی آر کو 5550ارب روپے کارٹارگٹ دیں گے،اگر امیر لوگ کردار ادا نہ کریں تو قرض واپس نہیں کرسکیں گے،ہماراقرض 16فیصد آمدن کاہے 360لوگ پورے پاکستان کے ٹیکس کا85فیصد دیتے ہیں یہ پورے ملک کاٹیکس دیتے ہیں جو ٹیکس دیے رہے ہیں ان پر بوجھ کم کیاجائے گا
انہوں نے کہا عوام کی خوشخالی اوران کی تکلیف کوکم کرنے کےلیے بھی اقدامات کریں گے ،اگرتیل کی قیمت بڑے گی تو 75فیصد صارفین جو 3سو سے کم یونٹ بجلی استعمال کررہی ہیں،ان کے لیے216ارب روپے بجٹ میں رکھیں جائیں گے،گیس کے 40فیصد صارفین کوسبسڈی دی جائے گی ۔احساس پروگرام کوایک ارب سے بڑھا کر180ارب کیاجائے گا
عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ 50گھروں کے منصوبے سے 40صنعتوں میں نوکری پیداکی جاسکتی ہے آنے والے سال میں اس کومزید فعال بنائیں گے ۔کامیاب نوجوان پروگرام کے لے 100ارب روپے رکھے جائیں گے۔ زراعت میں گزشتہ دوسال کمی ہوئی ہے،اس میں ترقی کے لیے 250ارب روپے رکھے جائیں ۔
انہوں نےکہا اسٹاک مارکیٹ اب بہتر ہوگئی ہے، عالمی اداروں کی رپورٹس میں بھی بہتری آرہی ہے، آنے والا معاشی سال ملکی معیشت کی بحالی کا سال ہوگا۔














