
کراچی (رنگ نوڈاٹ کام)جماعت اسلامی پاکستان کے جنرل سکریٹری امیر العظیم نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی
پارلیمنٹ میں نہ ہونے کے باجود اپنی مکمل قوت و صلاحیت کے ساتھ نہ صرف میڈیا و صحافی برادری بلکہ ملک کے کمزور و مظلوم طبقے کے ساتھ کھڑی ہے، ہم نے ہر دور میں صحافیوں کے حقوق کی بات کی ہے،آج پاکستان حالات کے جس موڑ پر ہے اس میں اپنے اپنے دائرے میں رہ کر جدوجہد کے بجائے مل کر بھرپور عوامی تحریک چلانے کی ضرورت ہے،
جماعت اسلامی کراچی کے شعبہ نشرواشاعت کے زیر اہتمام روایتی ”آم پارٹی“ میں الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا سے وابستہ صحافیوں سےخصوصی خطاب کرتےان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکمرانوں نے بھی ماضی کی طرح جھوٹے وعدے اور جھوٹی تسلیاں دیں جو اب سامنے آرہی ہیں اور اپنے جرائم کو چھپانے کے لیے آزادیئ صحافت کا گلا گھونٹا جارہا ہے۔
اس موقع پر امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن،کراچی پریس کلب کے صدر امتیاز فاران اور سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری نے بھی خطاب کیا۔
امیر العظیم نے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہم میڈیا ہاؤسز سے وابستہ ورکرز کے مسائل سے بخوبی واقف ہیں اور اپنی استطاعت کے مطابق ان کے حقوق کے حصول کے لیے آواز بھی بلند کرتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ پاکستا ن کے دیگر شہروں کی بھی صورتحال کم و بیش کراچی جیسی ہے،موجودہ حکمران انتخابات سے قبل عوام سے جو نعرے اور وعدے کر کے اقتدار میں آئے تھے اب وعدے پورے کرنے کے بجائے مہلت میں اضافے کے لیے بہانے تراش رہے ہیں۔ابتداء میں کہا گیا تھاکہ تین مہینے میں مسائل حل کردیں گے پھر چھے مہینے کا وعدہ کیا گیا اور اب بجٹ منظور ہونے کے بعد مزید ایک سال کی مہلت مانگنے کی بات کررہے ہیں جس سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ موجودہ حکومت بھی ماضی کی حکومتوں کی طرح عوام کو بے وقوف بنا کرصرف اقتدار کے مزے لوٹ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت حکومت اور ناہی حزب اختلاف کی قیادت کو عوام کے مسائل سے کوئی دلچسپی ہے بلکہ انہیں صرف اپنی قیادت اور ان کی کرپشن کی دفاع کی فکر ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ حکومت میڈیا ہاؤسز اور ورکرز کے مسائل حل کرنے کے بجائے ان کے لیے مزید مشکلات پیدا کررہی ہے جس سے عام صحافی بری طرح متاثر ہے،میڈیا سے وابستہ افراد کو تنخواہیں نہیں دی جارہی جس کے باعث میڈیا سے وابستہ ہزاروں افراد شدید بے چینی اور اضطراب کا شکار ہیں،ضروری ہے کہ ان کی تنخواہوں کی فی الفور ادائیگی کی جائے،میڈیا مالکان اداروں کو بیگار کیمپ نہ بنائیں ۔
انہوں نے کہا کہ آج کراچی حکومتی جماعتوں کی باہمی لڑائی کا شکار ہوکر رہ گیا ہے تینوں حکومتی جماعتوں کو کراچی کے مسائل کے حوالے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے،صرف نعرے اور جھوٹے وعدوں اور کمیٹیوں کے ذریعے عوام کو بے وقوف بنایا جارہا ہے۔روشنیوں کا یہ شہر آج ایک بڑے کچرے کا ڈھیر بن چکا ہے،مسائل حل کرنے کے بجائے ایک دوسرے پرذمے داری عائد کر کے شہریوں کو مزید اذیت میں مبتلا کیا جارہا ہے۔ماضی میں کراچی کو جب بھی جماعت اسلامی کی قیادت میسر آئی تو اس نےمثالی ترقیاتی کام کروائے اور کراچی کو اس کی اصل شناخت اورروشنیوں کو بحال کرنے کے لیے انتھک محنت کی۔
انہوں نے کہا کہ عبد الستار افغانی اور نعمت اللہ خان کے دور حکومت میں شروع ہونے والا ترقی کا سفر اس شہر کے دشمنوں نے زبردستی روک کر نہ صرف شہر کی شناخت بلکہ شہر کی خوبصورتی،ترقیاتی کام کو بری طرح نقصان پہنچایا،
حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ آج شہر ی پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں،نعمت اللہ خان کا شروع کیا گیا K4منصوبہ اگر بروقت مکمل کرلیا جاتا تو آج صورتحال بالکل مختلف ہوتی لیکن ترقی دشمن قیادت نے اس منصوبے کو بھی اپنے گھناؤنے عزائم کے بھینٹ چڑھایا۔انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی نے کراچی کی موجودہ صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے ”کراچی کو عزت دو حقوق دو“ کی تحریک کا آغاز کیا ہے اور ان شاء اللہ یہ تحریک ضرور کامیاب ہوگی اور شہریوں کے مسائل حل ہوں گے۔
امتیاز فاران نے کہاکہ صحافی برادری کی جانب سے جماعت اسلامی کراچی کا شکریہ ادا کیا اور صحافیوں کو درپیش مسائل کے حوالے سے کہا کہ حکومت ہو یا حزب اختلاف کسی نے بھی صحافیوں کے حقوق کے لیے کوئی آواز بلند نہیں کی۔میڈیا ریاست کا اہم ستون ہے لیکن حکمران اس سے خوف زدہ ہوکر بجائے مسائل حل کرنے کے اس کا گلا گھونٹنے کی کوشش کررہے ہیں۔
زاہد عسکری نے تمام پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ افراد اور سینئر صحافی کا ”آم پارٹی“ آمد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہماری ایک دیرینہ روایت ہے جو ہر سال باقاعدگی سے منعقد کی جاتی ہے۔














