
اسلام آباد(ویب ڈیسک ) وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ موجودہ حکومت نے ریاست مدینہ کے وژن کی روشنی میں
غریب اور کمزور طبقات کی بہبود کے لئے صحت سہولت اور ’’احساس‘‘ پروگرام شروع کئے ہیں۔
وزیر اعظم آفس میں صحت سہولت پروگرام کے اجراکے سلسلےمیں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتےوزیراعظم وعمران خان کا کہنا تھا کہ افراد کی طرح قوموں کا بھی وژن ہوتا ہے، پاکستان بھی ایک وژن کے تحت بنا، ہم اس سے دور چلے گئے۔ پاکستان نے مدینہ کی ریاست کی طرح اسلامی فلاحی ریاست بننا تھا، ریاست مدینہ جدید وژن کی بنیاد پر قائم ہوئی تھی، ریاست مدینہ انسانیت اور انصاف کے اصولوں پر قائم ہوئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ایسی اسلامی فلاحی ریاست بنانا چاہتے ہیں جہاں رحم، انسانیت اور انصاف ہو۔انہوں نے کہا کہ مدینہ کی ریاست ایک ماڈل ریاست تھی جس کے تمام نظریات مثالی تھے، انسانیت اور انصاف کے دو نظریات پر مدینہ کی ریاست قائم تھی جو انسانی معاشرے کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔
تقریب میں وفاقی کابینہ کے ارکان، اعلیٰ حکام اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ تقریب میں صحت انصاف کارڈ کے ذریعے معاشرے کے کمزور طبقات کو فراہم کی جانے والی صحت کی سہولتوں کے حوالے سے دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی۔ وزیراعظم عمران خان نے خصوصی افراد میں صحت سہولت کارڈ تقسیم کئے۔
انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کو ایسی اسلامی فلاحی ریاست بنانا چاہتے ہیں جہاں رحم، انسانیت اور انصاف ہو، افراد کی طرح قوموں کا بھی وژن ہوتا ہے، پاکستان بھی ایک وژن کے تحت بنا جس سے ہم دور چلے گئے، ہمیں اس وژن کی طرف واپس آنا ہے اور نوجوان نسل کو اس وژن سے آگاہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہ وژن تھا جس کے تحت پاکستان کو مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر فلاحی ریاست بنانا تھا۔
انہوں نے کہا کہ 25 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں اس لئے لازم ہے کہ ایسے لوگوں کے لئے ’احساس‘ پروگرام جیسے اقدامات کئے جائیں۔وزیر اعظم عمران خان نے کہاکہ سہولت کارڈ کے ذریعے ایک شخص کو سات لاکھ 20 ہزار روپے تک علاج معالجہ کا بیمہ دیا جاتا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ احساس پروگرام ہم نے جلد بازی میں شروع نہیں کیا بلکہ پوری طرح سوچ سمجھ کر اس کا آغاز کیا ہے اور اس پروگرام کے لئے ڈاکٹر ثانیہ نشتر کی کاوشیں قابل تعریف ہیں۔
تقریب میں وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ معذور افراد کے لئے صحت سہولت کارڈ کا اجراء احساس پروگرام کے وسیع پروگراموں کا ایک حصہ ہے، 34 وفاقی وزارتوں اور وفاقی اکائیوں سے متعلق بھی ذمہ داریاں احساس پروگرام میں تفویض کی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خصوصی افراد کے لئے سرکاری ملازمتوں میں دو فیصد، سرکاری رہائشوں میں ایک فیصد، نیا پاکستان ہائوسنگ پراجیکٹ میں دو فیصد کوٹہ مختص کیا گیا ہے اور وزیراعظم نے اس پر سختی سے عملدرآمد کرنے کی ہدایات جاری کر رکھی ہیں۔
ڈاکٹر ثانیہ نشتر کہا کہ خصوصی افراد کے سماجی تحفظ کے لئے قانون سازی بھی کی جا رہی ہے اور انہیں درکار معاون آلات بشمول وہیل چیئر، سفید چھڑی و دیگر کی فراہمی کے حوالے سے بھی اقدامات کئے جا رہے ہیں جس پر دسمبرسے عملدرآمد شروع ہو گا۔














