
اسلام آباد (ویب ڈیسک ) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اعلان کیا ہے کہ وزارت خارجہ میں ایک کشمیر سیل
تشکیل دیا جارہا ہے، ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اہم دارالحکومتوں میں پاکستانی سفارت خانوں میں ایک فوکل پرسن مقرر کریں گے۔
وزارت خارجہ میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کی خصوصی کمیٹی برائے کشمیر کے اجلاس میں تمام جماعتوں کی نمائندگی تھی، یکجہتی کا جو پیغام ہم نے مظفرآباد میں دیا وہی پیغام اس کمیٹی کے اجلاس میں دیا گیا ہے۔
شاہ محمود قریشی جمعہ کو مسئلہ کشمیر کو سب سے بڑے فورم پر اٹھایا گیا جہاں کشمیر کے حوالے سے گیارہ قراردادیں موجود ہیں، پوری کمیٹی اس بات پر متفق ہے کہ مودی سرکار نے نہرو کے فلسفے کو دفن کر دیا، ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اب ہندوستان کی حکمت عملی میںمودی، امیت شاہ اور دیول تین نمایاں کردار ہیں ۔
پریس کانفرنس میں وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، چیئرمین پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیرسید فخر امام اور پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے بھی شرکت کی۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی میڈیا نے کھل کر حق اور سچ کا ساتھ دیا ہے ان کے ساتھ روابط کے حوالے سے بھی طویل مشاورت ہوئی ہے،کمیٹی اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ عین ممکن ہے کہ بھارت توجہ ہٹانے کے لیے کوئی جھوٹا آپریشن کرے، ہم پہلے مطلع کرنا چاہتے ہیںکہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہمیں لابنگ کے لئے کاوشوں کو تیز کرنا ہو گا۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ وزیراعظم کی خصوصی کمیٹی برائے کشمیر کا اجلاس منعقد کیا گیا جس میں تمام جماعتوں کی نمائندگی تھی اور سب نے متفقہ طور پراسی یکجہتی کا پیغام دیا ہے جو ہم نے آزاد جموں وکشمیرمیں دیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر پر مشترکہ قرارداد کی منظوری کے بعد وزیراعظم نے یہ خصوصی کمیٹی تشکیل دی تھی جس میں اپوزیشن کی بھی بھرپور نمائندگی ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ گذشتہ روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کے مطالبے پر مسئلہ کشمیر پر بند کمرہ اجلاس بلایا گیا اورہندوستان کی بھرپور مخالفت کے باوجود سلامتی کونسل کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے بیان کو بھی مد نظر رکھا گیا۔
انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کے اجلاس سے ہندوستان چونک گیا ہے لیکن یہ ایک لمبی لڑائی ہے جس کے لئے ہمیں تیاری کرنا ہو گی۔وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کے خط کو اہمیت دی گئی اور بھارت کے مطالبے کو مسترد کیا گیا اور سکیورٹی کونسل کا اجلاس منعقد ہوا،پاکستان اور کشمیر کی قیادت نے بھارت کے یکطرفہ اقدام کو مسترد کر دیا ہے۔
وزیر خارجہ نے سیکرٹری خارجہ، اقوام متحدہ میں اپنی ٹیم اور مستقل مندوب ملیحہ لودھی کو اس سفارتی کامیابی پرمبارکباد پیش کی
۔انہوں نے کہا کہ آج ہندوستان کے اندر دو سو کے قریب نامور لوگوں نے پٹیشن سپریم کورٹ میں داخل کی ہے کہ اس فیصلے کو واپس کیا جائے،ہم نے تمام پہلوؤں پرغور کیا۔عالمی عدالت انصاف کے حوالے سے بھی مشاورت کی گئی اٹارنی جنرل اور وزیر قانون ہمیں اس پر تجاویز دیں گے۔




































