
اسلام آباد(ویب ڈیسک )مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ بحران سے نکل کر مستحکم دور
میں داخل ہوگئے ہیں، مشکل فیصلوں کے اچھے اثرات نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔ معیشت بحران سے نکل کر استحکام کی طرف بڑھ رہی ہے، عوام پر امید رہیں ۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتےہوئے مشیر خزانہ نے کہا کہ عوام کےسوا کسی کے لیے کام نہیں کر رہے،امیر طبقہ ٹیکسز دینے میں بہت کمزور ہے لیکن ٹیکسوں کے معاملے پر کسی سے بھی سودے بازی نہیں ہوگی، ریونیو اکھٹا کرنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ بیرونی قرض نہ لینا پڑے، پاکستان میں ٹیکس فائلرز کی تعداد25لاکھ ہوگئی ہے۔
عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ موجودہ حکومت آئی تو معاشی اشاریے بہت پریشان کن تھے۔حکومت نے فوری طور پر معاشی اصلاحات کےذریعے اقتصادی صورت حال کو بہتر کیا، حکومت کے اخراجات کم اور دفاع کا بجٹ منجمد کیا، کرنٹ اکاونٹ خسارے میں73فی صد کمی کی گئی۔
عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ ہم صرف عوام کے فائدے کےلیے کام کررہے ہیں۔ لوگوں میں خوشحالی لانا چاہتے ہیں، ہمارا کام پاکستان کے عوام کے لئے ہے، پاکستان کے لئے ہم دنیا کی ہر طاقت کے سامنے کھڑے ہونے کے لئے تیار ہیں۔ ریونیو اکھٹا کرنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ بیرونی قرض نہ لینا پڑے، رواں سال جولائی اور اگست میں580ارب ٹیکس جمع کیا گیا جب کہ گزشتہ مالی اسی دورانیے میں509ارب روپے ٹیکس جمع کیا گیا تھا۔ پچھلے سال کے مقابلے میں جولائی میں ایکسپورٹ میں اضافہ اور امپورٹ میں کمی ہوئی ہے۔
مشیر خزانہ نے کہا کہ ملک کا امیر طبقہ ٹیکسز دینے میں بہت کمزور ہے لیکن ٹیکسوں کے معاملے پر کسی سے بھی سودے بازی نہیں ہوگی۔ پاکستان میں ٹیکس فائلرز کی تعداد25لاکھ ہوگئی ہے، ایف بی آر میں6لاکھ ٹیکس دہندگان کو رجسٹر کیا گیا اور اسے مزید بڑھایاجائےگا، ایسا پروگرام متعارف کرا رہے ہیں جس میں ایکسپورٹرز کو فوری ری فنڈ ملے گا۔آئندہ سے ہر مہینے کی16تاریخ کو ٹیکس ریفنڈ ہوجایا کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایکس چینج ریٹ بہتر ہوا ہے جس کے باعث جون اورجولائی کے دوران روپے کی قدر بڑھی۔ روپے کی قدر اب مستحکم ہے،اسٹاک مارکیٹ بھی اب بہتر ہے۔ ملک میں اداروں کو بہتر انداز میں چلانے کی کوشش کررہے ہیں، شفاف انداز میں اداروں کی نجکاری چاہتے ہیں، پبلک سیکٹر میں نہ چل سکنے والے ادارے نجی شعبے کو دینے کا فیصلہ کیا ہے، اس سلسلے میں10نئی کمپنیوں کی نجکاری کے لیے اشتہار دے دیے گئے ہیں۔
زراعت کی ترقی کے حوالے سے مشیر خزانہ نے کہا کہ گزشتہ 5سال میں زراعت میں صفر فیصد اضافہ ہوا، زراعت کے شعبے میں اصلاحات چاہتے ہیں، اس کے لیے250ارب روپے کے منصوبوں کی منظوری دی گئی ۔














