قبل از وقت انتخابات آئینی مطالبہ ہے ,اپوزیشن کا اے پی سی میں موقف

اسلام آباد(ویب ڈیسک) اپوزیشن جماعتوں نے قبل از وقت انتخابات کو آئینی مطالبہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں

نئے انتخابات کے لیے تیار ہیں اور اس پر کوئی مفاہمت نہیں ہوگی۔
اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹی کانفرنس کے بعد اپوزیشن کے دیگر رہنماوں کے ہمراہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ 'کانفرنس میں 4 نکاتی ایجنڈے پر جدوجہد جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا، تمام اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا ہوگا۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ نئے الیکشن پر کوئی مفاہمت نہیں ہوگی، بات نہ مانی گئی تو گھوڑا بھی حاضر ہے اور میدان بھی، جدوجہد جاری رہے گی، پس پردہ ملاقتوں کے سوال پر انہوں نے کہاکہ بات رابطوں کی نہیں موقف کی ہے، وہ موقف پر قائم ہیں۔
انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کی روز سماعت کا فیصلہ جلد دیا جائے۔ اجلاس میں سی پیک جیسے اہم منصوبے کو متنازع بنانے کی مذمت کی گئی۔ سی پیک اتھارٹی کا قیام غیر قانونی اور پارلیمانی کمیٹی سے متصادم ہے۔
اے پی سی نے سی پیک سے متعلق وزراء کے غیر ذمہ دارانہ بیانات کی مذمت کی۔ اجلاس نے ناروے میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے واقعہ کی شدید مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ حکومت اس معاملے کو نارے کی حکومت کے ساتھ موثر طریقے سے اٹھائے اور امت مسلمہ کی طرف سے احتجاج نوٹ کرائے تاکہ آئندہ کیلئے اس قسم کے واقعات کاسدباب ہوسکے۔ ا
گر مطالبات پورے نہ ہوئے تو پھر ہم بھی ہیں۔ میدان بھی ہے پاکستان بھی ہے، ہم اپنی جگہ کھڑے رہیں گے، ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔ ہم نے متفقہ طورپر طے کرلیا ہے کہ تمام صوبوں اور ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں مشترکہ مظاہرے ہوں گے جس کا شیڈول وہاں کی صوبائی اور ضلعی جماعتیں طے کریں گی۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ اسلام آباد لوگ آئے اورچلے گئے انشاء اللہ حکومت اسی کے نتیجے میں جائے گی۔ پوری قوم آئی تمام پارٹیاں آئیں، تمام تنظیموں کے نمائندے آئے ہر شعبہ زندگی سے وابستہ لوگوں نے اپنا احتجاج نوٹ کرایا اس کو کس طرح نظر انداز کیاجاسکتاہے۔ جبکہ بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ آصف زرداری کافی بیمار ہیں مگر حکومتی روایتی غفلت کا مظاہرہ کررہی ہے۔ہمارے ساتھ بالکل تعاون نہیں کررہی۔ ہم نے التجا کی کہ نجی ڈاکٹروں کورسائی دی جائے تاکہ اہل خانہ کو تسلی ہوکہ آصف زرداری کاصحیح علاج جاری ہے لیکن حکومت ہمارا یہ مطالبہ نہیں مان رہی جہاں تک کیسز کا تعلق ہے ہم ان کا مقابلہ کررہے ہیں۔
احسن اقبال نے کہاکہ ن لیگ کا اپوزیشن کے ساتھ مشترکہ موقف ہے کہ 2018 میں جوعمران خان سلیکشن آئی تھی اس نے 15 ماہ میں پاکستان کیلئے مختلف سطحوں پر سلامتی کے خطرات پیدا کردئیے ہیں۔ آج ہماری ریاست ادارتی سطح پر غیر فعال ہورہی ہے۔ ہر پارلیمنٹ کو تالے لگا دئیے گئے ہیں۔ آرڈیننس کے ذریعے کاروبار سرکار چل رہا ہے۔ مہنگائی نے غریب آدمی کی کمر توڑ دی ہے۔ ہمارے نوجوانوں کا مستقبل ختم ہوگیا ہے وہ پاکستان جو 5.8 فیصد پر ترقی کررہا ہے اس کو 2فیصد پر لے آئے ہیں۔ 15 مہینوں میں یہ دنیا کا سب سے بڑاکرپشن ہے۔ لہذا اس حکومت کور خصت کرکے نئے الیکشن کے ذریعے سلیکٹڈ کی جگہ الیکٹڈ حکومت لانا ملکی معیشت بقاء سلامتی کیلئے ناگزیر ہوگیا ہے۔