
اسلام آباد(ویب ڈیسک،خبر ایجنسی،فوٹو:فائل ) معاون خصوصی اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ
افواج پاکستان نے پاکستان کیلئے لازوال قربانیاں دی ہیں۔فوج نے اپنے لہو سے امن کے دئیے روشن کیے ہیں۔جب داخلی اور خارجی راستوں پر پاکستان کامیابیاں سمیٹ رہا ہے۔ ایسے میں کچھ لوگ اپنی انتقامی تسکین کیلئے عدالتی فیصلے پر خوشیاں مناتے دکھائی دے رہے ہیں۔
اٹارنی جنرل کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے معاون خصوصی نے کہا کہ فوج نے سویلین حکومت کو سپورٹ کیا۔جمہوریت کو مضبوط کیا لیکن اس طرح ادارے پر تنقید سے قومی یکجہتی داؤ پر ہے.ہم سب کے لئے پاکستان سب سے زیادہ مقدم ہے۔
پاکستان جن حالات سے گزر رہا ہے اس صورتحال میں پاکستان کے تمام اداروں کے درمیان باہمی اعتماد اور ہم آہنگی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ \
وزیراعظم عمران خان اور عسکری قیادت مل کر پاکستان کو درپیش چیلنجز سے نبردآزما ہیں۔ افواج پاکستان اور موجودہ حکومت قومی مفاد کیلئے ہر محاذ پر یکجہتی سے آگے بڑھتے ہوئے اپنے تمام خارجی اور داخلی مسائل پر قابو پانے میں کامیاب ہوئی ہے۔ معیشت کی طرف مثبت اعشاریے اور تمام بین الاقوامی اداروں کا پاکستان کے معاشی اعشاریوں کی تعریف کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وزیراعظم پاکستان اور عسکری قیادت نے مل کر پاکستان کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا۔
افواج پاکستان نے ملکی دفاع قومی سلامتی اور دفاع کے پلیٹ فارم پر لازوال قربانیاں دی ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ افواج پاکستان کے جوانوں اور افسران نے اپنے لہو سے امن کے دئیے روشن کیے ہیں۔
افواج پاکستان کا جو جمہوری چہرہ ہے جمہوری کلچر اور جمہوری رویے ہیں اور جو جمہوریت پسند ان کی سوچ ہے اس پر پوری قوم خراج تحسین پیش کرتی ہے لیکن کچھ ہمارے سیاسی نادان دوست فوج کے کردار پر انگلیاں اٹھاکر ادارے کی تضحیک میں مصروف عمل ہیں۔کسی فرد واحد یا شخصیت کو ٹارگٹ کرتے کرتے وہ اتنے آگے چلے جاتے ہیں کہ وہ ادارے کی ساکھ پر حملہ آور ہوتے ہیں۔
میڈیا سے گزارش ہے کہ ہم سب پاکستانی ہیں، اس کے بعد ہماری سیاسی ڈویژن ہے یا کوئی اور پیشہ ورانہ شناخت ہے جس انداز سے ہمارے دفاع اور قومی سلامتی کے اداروں کو ٹارگٹ کرکے بدنام کیا جارہا ہے۔اس سے پاکستان کی اپنی یکجہتی اور قومی سلامتی داؤ پر لگ رہی ہے۔
اٹارنی جنرل انور منصور نے کہاکہ غیر حاضری ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کو سزائے موت سنائی گئی پرویز مشرف کیخلاف 2013ء میں آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ چلانے کی درخواست دی گئی۔
پرویز مشرف نے ایمرجنسی نفاذ میں شامل دیگر لوگوں کو بھی شامل تفتیش کرنے کی درخواست دی تھی۔18ویں آئینی ترمیم میں آرٹیکل 90 میں ترمیم کی گئی شکایت کنندہ کو کابینہ نے درخواست دائر کرنے کی منظوری نہیں دی تھی۔ پرویز مشرف شدید علیل ہونے کے باعث آئی سی یو میں ہیں۔ سمجھ سے باہر ہے کہ پرویز مشرف کیخلاف فیصلہ اتنی عجلت میں کیوں سنایا گیا۔














