اداروں میں تصادم پاکستان کے مفاد میں نہیں،وزیر اعظم

اسلام آباد(ویب ڈیسک ،خبر ایجنسی)وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ اداروں کے درمیان کسی قسم کا

تصادم پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت پی ٹی آئی کور کمیٹی کا اجلاس ہوا ،جس میں سابق صدر پرویز مشرف کیس سے متعلق عدالتی فیصلے کا جائزہ لیا گیا اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر بھی مشاورت کی گئی۔

ذرائع مطابق پی ٹی آئی کور کمیٹی نے اداروں کے درمیان ہم آہنگی بڑھانے کیلئے کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔دوسری جانب کھاد کی قیمتوں میں اضافہ کے معاملے پر وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر چھ رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔ کمیٹی کھاد کی قیمتوں میں کمی کے لئے سفارشات مرتب کرے گی۔ کمیٹی کا پہلا اجلاس 20 دسمبر کو طلب کر لیا گیا۔ وفاقی وزیر نیشنل فوڈ خسرو بختیار اور مشیر تجارت کمیٹی میں شامل ہیں جب کہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی، وزیر توانائی اور پٹرولیم ڈویژن کے حکام بھی کمیٹی کے ممبران ہوں گے۔

اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت قانون اور آئین کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے ،لیکن اداروں کے درمیان کسی قسم کا تصادم پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے۔ادارے اپنے آئینی اور قانونی دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے فرائض سر انجام دیں حکومت آئینی اور قانونی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں معاونت کو یقینی بنائے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ بیرونی قوتیں پاکستان کو کمزور کرنے کے لئے جن سازشوں میں مصروف ہیں، ان میںانہیں ناکامی ہو گی۔ افواج پاکستان نے ملک کو پر امن بنانے کے لئے لازوال قربانیاں دیں۔ہمیں اتحاد اور یکجہتی سے قومی مسائل کو حل کرنا ہوگا۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے وزرا کو عدالتوں کے فیصلوں پر بیانات دینے سے روک دیا۔ کور کمیٹی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ حکومت کو ریاست کا مفاد مقدم ہے اور ہم نے ہر حال میں قانون کے ساتھ ہی کھڑے ہونا ہے۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ کور کمیٹی کو عدالتی فیصلے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ہے۔ ہماری قانونی ٹیم پرویز مشرف کے خلاف فیصلے پر ترجیحات کو دیکھے گی جس کے بعد ہی حکومت موقف سامنے آئے گا۔