وائٹ کالر کرائم کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے،چیئرمین نیب

اسلام آباد (ویب ڈیسک ،خبر ایجنسی) قومی احتساب بیورو ( نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب

پاکستان کو کرپشن فری بنانے کےلئے اپنی کوششیں دوگناکرکے میگا کرپشن، وائٹ کالر کرائم کو منطقی انجام تک پہنچانے کےلئے پرعزم ہے۔
نیب ہیڈ کوارٹر میں نیب کے تمام علاقائی بیوروز آپریشن اور پراسیکوشن ونگ کی پندرہ روزہ جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیاانہوں نے کہا کہ نیب نے بد عنوانی کے 630 ریفرنس متعلقہ احتساب عدالتوں میں دائر کئے ہیں۔ نیب ہیڈ کوارٹر میں ایک ای لائبریری بھی قائم کی گئی ہے جس میں قانونی امور سے متعلق پچاس ہزار سے زائد کتابیں دستیاب ہیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ نیب کے آپریشنل اور پراسیکوشن ڈویژن کی شکایت کی جانچ پڑتال انکوائریوں، انوسٹی گیشنز کو قانون کے مطابق نمٹانے، احتساب عدالتوں، ہائیکورٹس اور سپریم کورٹ میں مقدمات کی پیروی کےلئے تمام علاقائی بیوروز کو قانونی معاونت فراہم کررہے ہیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ نیب نے مقدمات کو تیزی سے نمٹانے کےلئے شکایت کی جانچ پڑتال، انکوائری، انوسٹی گیشنز اور احتساب عدالتوں میں مقدمات دائر کرنے کےلئے دس ماہ کا عرصہ مقرر کیا ہے تاکہ میگا کرپشن مقدمات کو تیزی سے منطقی انجام تک پہنچانے کےلئے چیلنج سے نمٹا جاسکے جس کےلئے نیب افسران پاکستان کو کرپشن فری بنانے کےلئے قانون کے مطابق دن رات محنت کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نیب نے سینئر سپر وائزری افسران کی اجتماعی دانش سے فائدہ اٹھانے کےلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا نظام واضح کیا ہے جس سے نہ صرف نیب کی کارکردگی میںبہتری آئی ہے بلکہ کوئی بھی فرد نیب کی تحقیقات پر اثر انداز نہیں ہوسکتا۔ اس اقدام کے باعث نیب نے بد عنوانی کے 630 ریفرنس متعلقہ احتساب عدالتوں میں دائر کئے ہیں۔
چیئرمین نیب نے تمام انوسٹی گیشن افسران کو ہدایت کی کہ وہ ہر مقدمے کی کیس ڈائری تیار کریں جو بہت اہم ہے اور انہیں انکوائری اور انوسٹی گیشن کے معیار کو قانون کے مطابق بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔