
اسلام آباد (ویب ڈیسک ،خبر ایجنسی)وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق
اعوان نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کی بالادستی کو یقینی بنانا حکومت اور اپوزیشن دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔قومی مفاد پر سیاست نہیں ہونی چاہیے، ملک کا مفاد ہم سب کی ترجیح ہونی چاہیے ،چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ قومی ضرورت ہیں ، اس ملک کی سلامتی اور دفاع ہم سب کی ذمہ داری ہے
نجی ٹی وی چینل سے خصوصی بات چیت کرتے انہوں نے کہا کہ رانا ثناءاللہ کا کیس بہت واضح ہے یہ کریڈٹ اے این ایف کو جاتا ہے جس نے جرات اور بہادری سے طاقتور مافیا پر ہاتھ ڈالا، قانون کے کٹہرے میں سب برابر ہیں،اگر اے این ایف نے کسی کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا ہے تو قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا ۔کسی کا میڈیا ٹرائل نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان حالت جنگ میں ہے اور ایسی صورتحال میں سپہ سالار بدلے نہیں جاتے، ہر قوم اپنے کمانڈر کے پیچھے کھڑی ہوتی ہے، پوری امید ہے کہ آرمی ایکٹ میں ترمیم کے وقت ساری پارلیمنٹ یک زبان ہو گی۔ انہوں نے کہاکہ وزراءکے بیانات میں کوئی تضاد نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ رانا ثناءاللہ کو بے گناہی کے سرٹیفکیٹ دینے والوں کے ذہنوں میں ابہام ہے، رانا ثناءاللہ کیس کا چارج فریم تب ہو گا جب ٹرائل شروع ہو گا، ان کے کیس میں تو ابھی ٹرائل شروع ہونا ہے، چالان پیش ہونے کے بعد چارج فریم ہوتا ہے، رانا ثناءاللہ کے وکلاءٹارگٹ کر کے عدالتی کارروائی روکنے کی کوشش کرتے رہے، ان کے وکیل بہانوں سے تاریخیں لیتے رہے جس کی وجہ سے ٹرائل شروع ہونے میں تاخیر ہوئی۔
معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات نے کہا کہ رانا ثناءاللہ اگر بے گناہ ہیں تو عدالت فیصلہ دے گی، ان کی ضمانت ہوئی ہے، کیس ختم نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ڈرگ کورٹ میں آج تک 15 کلو ہیروئن والے ملزم کی ضمانت نہیں ہوئی۔
معاون خصوصی نے کہا کہ ہم سب نے مل کر پارلیمنٹ میں اتفاق رائے سے قانون کو منظور کرانا ہے، اگر اپوزیشن قومی مفاد کے ساتھ کھڑی نہیں ہوتی تو حکومت اگلا لائحہ عمل طے کرے گی۔ الیکشن کمیشن اور قانون سازی کے حوالے سے اپوزیشن کے ساتھ بیک ڈور رابطے میں ہیں، امید ہے کہ معاملات خوش اسلوبی سے حل ہو جائیں گے۔





































