
لاہور(ویب ڈیسک)منشیات برآمدگی کیس میں گرفتار سابق وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ کو ضمانت پر جیل سے رہا کر دیا
گیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے دو روز قبل رانا ثنا اللہ کی درخواست ضمانت منظور کی تھی جس کا تحریری فیصلہ بھی جمعرات کو جاری کر دیا گیا ہے۔عدالت کی جانب سے رانا ثنا اللہ کو 10، 10 لاکھ روپے کے دو مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا گیا تھا۔
رانا ثنا اللہ کی جانب سے مچلکے جمع ہونے کے بعد لیگی رہنما کو لاہور کی کیمپ جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔جیل سے باہر آنے پر لیگی کارکنوں نے ان کے حق میں زبردست نعرہ بازی کی اور ان کا والہانہ استقبال کیا۔
لیگی کارکنوں کی جانب سے رانا ثنا اللہ کو پھولوں کے ہار پہنائے گئے جبکہ پتیاں بھی نچھاور کی گئیں۔منشیات کیس میں گرفتار ن لیگ پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ 5ماہ25 دن بعد جیل سے رہا ہوئے۔
ٹرائل کورٹ کے ججز کے رخصت پر ہونے کے باعث لاہور ہائیکورٹ میں ہی ان کے مچلکے جمع کرائے گئے جن کی تصدیق کے بعد ان کی رہائی کی روبکار جیل سپریٹنڈنٹ کے نام پر جاری کی گئی۔روبکار موصول ہونے کے بعد جیل میں جانچ پڑتال کا عمل مکمل کیا گیا اور رانا ثنا اللہ کو رہا کر دیا گیا۔
رہائی کے موقع پر رانا ثنا اللہ کی اہلیہ اور داماد سمیت لیگی کارکن کی بڑی تعداد اظہار یکجہتی کے لیے جیل کے باہر پہنچی۔ تاہم وہ میڈیا سے بات کیے بغیر اپنی فیملی کے ہمراہ روانہ ہو گئے، کہ انہوں نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور رانا ثنا اللہ کے کیس کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔شہریار آفریدی کا یہ بھی کہنا تھا کہ عدالت کا تفصیلی فیصلہ سامنے آنے کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت کریں گے۔














