لاک ڈاﺅن، کراچی سمیت سندھ بھر میں دوسرے روز سڑکیں اور بازار ویران

کراچی(ویب ڈیسک،نمائندگان رنگ نو)سندھ حکومت کی جانب سے لاک ڈاﺅن کے اعلان کے بعد کراچی سمیت

صوبے بھر میں سڑکیں سنسان اور بازار ویران ہوگئے،کراچی میں 85فیصد سے زائد کاروباری مراکز بند رہے البتہ جوڑیا بازار میں اجناس کی ترسیل جاری رہی۔
شہر میں لاک ڈان سے غریب طبقہ اور روزمرہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور سڑکوں پر پریشان دکھائی دئیے۔ سڑکوں پر ٹریفک بھی بہت کم دکھائی دی اورپبلک ٹرانسپورٹ بھی کم رہیں،پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے سبب رکشہ ڈرائیوروں نے مسافروں سے من مانے کرایے وصول کیے۔
سرکاری ادارے بندہونے کے اعلان کے بعد بے شمار سرکاری ملازمین بدھ کو ہی اندرون سندھ اپنے اپنے گاﺅں اور شہروں کو چلے گئے۔ صدر، ایم اے جناح روڈ،لائٹ ہاﺅس، طارق روڈ،لیاقت آباد،حیدری،عبداللہ ہارون روڈ، زیب النساءاسٹریٹ، لیاقت آباد صرافہ مارکیٹ، بہادر آباد، گولیمار سینیٹری مارکیٹ،پاک کالونی ماربل مارکیٹ، پلازہ آٹوپارٹس مارکیٹ،بولٹن مارکیٹ، ڈینسو ہال سمیت شہر بھر کی تمام مارکیٹس،شاپنگ سینٹرزبندرہے البتہ لانڈھی، کورنگی، سائٹ، سائٹ سپرہائی وے، فیڈرل بی ایریا، نارتھ کراچی صنعتی علاقوں میں میں فیکٹری مالکان نے اپنی فیکٹریاں بند نہیں ہوئیں جبکہ اندرون سندھ بھی صنعتی علاقوں میں پیداواری عمل جاری رہا۔
شہر بھی کی تمام اجناس مارکیٹس بند رہیں جبکہ سبزی منڈی سے بھی سبزیوں اور پھلوں کی سپلائی متاثر رہی۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ اس پریشانی کے وقت میں عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے، کاروباری مراکز بند ہونے سے لوگ بے روزگار ہورہے ہیں۔